ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی ڈی جی پاسپورٹس کو پاسپورٹ نظام جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ،عوامی سہولیات میں بہتری لانے کی ہدایت

کوئٹہ+اسلام آباد(این این آئی)ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے پاسپورٹ کے اجراء کے نظام میں بہتری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوامی سہولیات کے فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے کی جانے والی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان اقدامات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے پاسپورٹ کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس چوہدری محمد علی رندھاوا سمیت قبائلی عمائدین، وکلاء، سول سوسائٹی کے نمائندوں، طلباء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں عوامی مسائل، قومی امور اور ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈی جی پاسپورٹس سے ملاقات کے دوران پاسپورٹ کے اجراء کے موجودہ نظام، ادارے کی کارکردگی، سیکیورٹی فیچرز اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر سیدال خان ناصر نے کہا کہ پاسپورٹ کے نظام میں بہتری اور عوامی سہولیات کے لیے حکومتی اقدامات خوش آئند ہیں۔ متعلقہ ادارے کی کارکردگی میں بہتری کے لیے کی جانے والی کوششیں قابلِ ستائش ہیں، تاہم عوام کی سہولت کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ پاسپورٹ کے اجراء کے تمام مراحل میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نظام اور آٹومیشن کے استعمال کو فروغ دیا جائے تاکہ درخواست سے لے کر پاسپورٹ کی فراہمی تک کا عمل تیز رفتار، شفاف اور آسان بنایا جا سکے۔ شہریوں کو غیر ضروری تاخیر، طویل انتظار اور انتظامی پیچیدگیوں کا سامنا نہیں ہونا چاہیے جبکہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کو بھی یقینی بنایا جائے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا جدید ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامی حکمت عملی کے ذریعے عوام کا اعتماد مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مزید بہتری، جدید عالمی معیار اور سیکیورٹی تقاضوں کے مطابق اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا۔ملاقات میں مستقبل قریب میں نادرا کے ذریعے پاسپورٹ کے اجرائکی سہولت متعارف کرانے، پاسپورٹ کی سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر پاکستانی پاسپورٹ کی درجہ بندی بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈی جی پاسپورٹس نے بتایا کہ انتظامی نظم و ضبط اور بین الاقوامی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آفیشل (بلیو) پاسپورٹس کی تعداد 74 ہزار سے کم کرکے 49 ہزار کر دی گئی ہے۔دیگر وفود اور شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حکومت معاشی ترقی، مہنگائی میں کمی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے مثبت اثرات دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مرتب ہونے ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں