کوئٹہ(این این آئی) پاکستان بار کونسل کے ممبر منیر احمد خان کاکڑ نے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے بھائی کی دکان سیل کرنے اور ان کے خاندان کو فراہم کردہ سیکیورٹی واپس لینے کے مبینہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ، افسوسناک اور قابل تشویش قرار دیا ہے۔اپنے ایک مذمتی بیان میں منیر احمد خان کاکڑ نے کہا کہ کسی شہری کی غیر قانونی طور پر دکان سیل کرنا اور کاروبار بند کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر کسی شخص کی نظریات یا بیانیہ سے متعلق کوئی معاملہ درپیش ہے تو جمہوری ملک میں ایسے اقدامات افسوسناک ہے انہوں نے کہا کہ سینیٹر کامران مرتضیٰ ملک کے ایوانِ بالا کے رکن، معروف قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رہ چکے ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ بھی رکن قومی اسمبلی ہیں۔ ایسے خاندان کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک نہ صرف افسوسناک بلکہ کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔منیر احمد خان کاکڑ نے کہا کہ ایک جانب خاندان کے فرد کی دکان سیل کر دی گئی ہے تو دوسری جانب خاندان کو فراہم کردہ سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی ہے، جو باعث تشویش ہے۔ کسی بھی شہری کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ سیاسی، سماجی یا قانونی حیثیت سے قطع نظر ہر شہری کو یکساں قانونی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر دکان کی بندش کے حوالے سے کوئی قانونی جواز موجود ہے تو اسے عوام اور متاثرہ خاندان کے سامنے واضح کیا جائے اور متعلقہ افراد کو صفائی کا پورا موقع فراہم کیا جائے۔ اسی طرح خاندان کی سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے پر بھی نظرثانی کی جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے کا خدشہ پیدا نہ ہو۔پاکستان بار کونسل کے ممبر نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ سینیٹر کامران مرتضیٰ کے بھائی کی دکان فوری طور پر کھولی جائے، خاندان کی سیکیورٹی بحال کی جائے اور اس معاملے میں قانون و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ طرزِ عمل اختیار کیا جائے۔

