نہال خان بلوچ
بلوچستان میں اس وقت سیاسی جدوجہد اپنے نازک اور فیصلہ کن موڑ پر ہے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی، وسائل پر حقِ خودارادیت، اور ریاستی جبر کے خلاف مسلسل عوامی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ ان حالات میں مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی کا اچانک لانگ مارچ شروع کرنا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہے۔ خاص طور پر اس وقت کا انتخاب جب بلوچ مائیں اسلام آباد میں دھرنا دیے بیٹھی ہیں، اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے فریاد لے کر، یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ مارچ دراصل حقیقی جدوجہد سے توجہ ہٹانے اور عوامی مزاحمت کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔
یہ جماعت ان نعروں کا چربہ استعمال کرتی ہے جو مظلوم اقوام کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں۔ مہنگائی، غربت، عدل، انصاف — سب ان کے ہتھیار بن چکے ہیں، مگر ان نعروں کے پیچھے اصل مقصد ریاستی بیانیے کو دوام دینا اور ان تحریکوں کو ہائی جیک کرنا ہوتا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے دائرہ اختیار سے باہر نکل چکی ہیں۔
اس جماعت کا سب سے خطرناک چہرہ اس کا طلبہ ونگ ہے — اسلامی جمعیت طلبہ — جو آج بھی تعلیمی اداروں میں نظریاتی غنڈہ گردی کا نمائندہ ہے۔ پنجاب کی جامعات، خاص طور پر پنجاب یونیورسٹی، بہاولپور یونیورسٹی اور جی سی لاہور جیسے ادارے، جمعیت کے ان حملوں کے گواہ ہیں جہاں بلوچ، پشتون، یا دیگر غیر پنجابی طلبہ کو صرف اپنی ثقافت کے اظہار پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 2017 اور 2021 کے واضح واقعات میں کلچرل ڈے پر حملے، پشتون و بلوچ طلبہ کی بے عزتی، ہاسٹلز پر دھاوا، اور انہیں غدار یا کافر کہہ کر دبانا — یہ سب محض طلبہ سیاست نہیں، بلکہ نسلی امتیاز، فکری جبر، اور نظریاتی آمرانہ سوچ کی عکاسی ہے۔
جمعیت صرف ایک تنظیم نہیں، یہ ریاستی بیانیے کا کیمپس لیول پر مسلح بازو ہے، جو یونیورسٹیوں کو فکری آزادی کے مراکز کی بجائے نظریاتی قلعے بنانا چاہتی ہے۔ ان کا ایجنڈا واضح ہے: جو ان سے اختلاف کرے، وہ غدار، ملحد، یا مغرب زدہ ہے؛ جو اپنی قوم، زبان، یا شناخت پر فخر کرے، اسے عبرت بنا دیا جائے۔
جماعت اسلامی پاکستان کی سیاست میں مذہب کے نام پر نظریاتی استحصال کی سب سے منظم مثال ہے۔ اس جماعت نے ہمیشہ اپنے آپ کو “اسلامی سیاست” کا پرچم بردار ظاہر کیا، مگر اس کی تاریخ پر اگر سنجیدگی سے نظر ڈالی جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اصل وفادار نہ اسلام ہے، نہ عوام، بلکہ صرف اور صرف ریاستی اسٹیبلشمنٹ اور طاقت کے مراکز ہیں۔
1971 کے سانحہ مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کا کردار اس کے منافقانہ طرزِ عمل کی بدترین مثال ہے۔ البدر اور الشمس جیسی ملیشیائیں جماعت اسلامی کے زیرِ اثر بنائی گئیں، جنہوں نے نہ صرف بنگالی مسلمانوں کے قتلِ عام میں حصہ لیا بلکہ خواتین کی عصمت دری جیسے گھناونے جرائم بھی کیے۔ عمود الرحمان کمیشن رپورٹ اور دیگر غیر جانب دار ذرائع اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے نظریاتی جنگ کے نام پر نسل کُشی کو جائز ٹھہرایا۔
افغانستان میں جہاد کے نام پر خون کی ہولی کھیلنے میں بھی جماعت اسلامی نے ایک بڑا کردار ادا کیا۔ 1980 کی دہائی میں جب امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، جماعت اسلامی نے امریکی ڈالروں کے عوض اس ‘جہاد’ کو مذہبی فریضہ بنا کر پیش کیا۔ اس جنگ میں ہزاروں افغان شہری بے گناہ مارے گئے، اور جماعت اسلامی نے اسے “اسلامی کامیابی” کا نام دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے اس جنگ کو سرمایہ، اثر و رسوخ، اور عالمی اسٹیبلشمنٹ سے قربت کے حصول کے لیے استعمال کیا، اور یہ سب مذہب کی آڑ میں ہوا۔
ایسے میں جماعت اسلامی کی جانب سے مظلوموں کے حق میں لانگ مارچ کرنا درحقیقت ایک سیاسی فراڈ ہے۔ یہ عوامی مسائل کی ترجمانی نہیں بلکہ اصل تحریکوں کی راہ میں دیوار بننے کی کوشش ہے۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ، بلوچستان کے مظلوم عوام، یا پشتون طلبہ — ان سب کی آواز کو دبانے کے لیے جب ریاست کھل کر سامنے نہیں آتی، تب جماعت اسلامی جیسے “نیم ریاستی” کردار آگے بڑھائے جاتے ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ مزاحمت بھی مذہب اور ریاست کے دائرے میں ممکن ہے — مگر ان کی مزاحمت میں نہ سوال ہوتا ہے، نہ سچائی۔
بلوچ قوم کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ وہ ان نظریاتی پردہ نشینوں کو پہچانے جو مزاحمت کے نعروں میں اطاعت چھپاتے ہیں، جو دین کے نام پر جبر کو جائز قرار دیتے ہیں، اور جو مظلومیت کی آڑ میں دراصل ریاستی مفادات کے محافظ ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی جیسی قوتیں، جو بظاہر مذہب اور انصاف کی بات کرتی ہیں، دراصل وہی چہرے ہیں جو بنگال میں بنگالی مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگ چکے ہیں، اور آج بلوچ عوام کی جدوجہد کو کمزور کرنے کے لیے ایک نیا اسکرپٹ لے کر میدان میں آتی ہیں۔
یہ وقت ہے کہ بلوچ نوجوان، سیاسی کارکن، دانشور، اور ہر بیدار فرد ان کے مکارانہ بیانیے سے ہوشیار رہیں۔ ان کے لانگ مارچ، مظلومیت کے دعوے، اور مذہبی نعرے صرف ایک چال ہیں تاکہ اصل تحریکوں کو ہائی جیک کیا جا سکے، اور بلوچ قوم کی خودمختار آواز کو پھر سے ریاستی سانچے میں قید کیا جا سکے۔ اگر ان کے کردار کو کھل کر بے نقاب نہ کیا گیا، تو وہ آنے والے وقت میں بھی بلوچ جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ اور دھوکے کی دیوار بنے رہیں گے۔
باشعور بلوچوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر اس قوت کو رد کریں جو ان کی شناخت، مزاحمت، اور حقِ خودارادیت کو مذہب یا وحدتِ ملت کے نام پر دبا دینا چاہتی ہے۔ صرف وہی تحریکیں حقیقی ہیں جو زمین سے اٹھتی ہیں، نہ کہ وہ جو طاقت کے مراکز سے بھیجی جاتی ہیں۔ جماعت اسلامی کی تاریخ اور موجودہ سیاست اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ جماعت بلوچ قوم کے زخموں پر مرہم نہیں بلکہ نمک ہے — اور نمک کو مرہم سمجھنا سب سے خطرناک فریب ہے۔

