پاکستان کے لئے نئی سوچ۔۔۔۔۔۔نئے انتظامی یونٹس کی بازگشت۔۔۔۔۔ڈاکٹر عشرت العباد خان اہم کیوں؟

رضوان احمد فکری
پاکستان عالمی دنیا میں اہمیت کا حامل بھی ہے اور فیلڈ مارشل حافظ سیدعاصم منیر کی بہترین پیشہ وارانہ صلاحیت کی وجہ سے امریکہ کا بہترین دوست بھی۔ معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کے بعد پاکستانی قوم اور سبز پاسپورٹ کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہے۔ لیکن سب کچھ بدلنے اور اعلی مقام حاصل کرنے کے باوجود اگر کچھ نہیں بدلا تو وہ ہمارے سیاست دان ہیں۔ احتجاج اور ماحول کو کشید ہ کرنا معیشت کو پھلنے پھولنے نہ دینا اور اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے ملک میں عدم استحکام کو فروغ دینا۔ حکومتی بیڈ گورننس اور بدنیتی کی وجہ سے اللہ کی ناراضگی قدرتی آفات کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ سیلاب اور بار ش کی تباہ کاریاں پورے ملک میں ہیں کے پی سب سے زیادہ متاثر ہے۔ کراچی کو شدت سے احساس ہوا ہے کہ وہ لاوارث شہر ہے۔ اللہ پاکستان کو اس بحران سے نکالے۔آمین۔پوری قوم کو ایک پیج پر لانے والے فیلڈ مارشل ملک کو معاشی محاذ پر بھی مستحکم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ لیکن اس صورتحال میں بھی صوبوں میں سیاست پہلے ریاست بعد میں کی واضع سوچ نظر آتی ہے۔ پوری قوم وطن پرستی کے جزبے سے سرشار ہے۔سیاست دان سیاست پرستی کا شکار ہیں۔ پاکستان کے لئے نئی سوچ کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ جو ایک سال سے سابق گورنر سندھ (نشان امتیاز) ڈاکٹر عشرت العباد خان ایک نئی سوچ میری پہچان پاکستان اور ریاست پہلے سیاست بعد میں کی نئی سوچ کے ساتھ متحرک ہوئے۔انہوں نے وطن پرستی اور نوجوانوں میں مایوسی کو امید کی کرن میں بدلنے کی ٹھانی۔ اپنے بیانیہ میں کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں سمیت ملک کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلانے والے افراد کو احساس دلایا کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں ہماری فوج ہماری عظمت کی علامت ہے۔ انہوں نے جب یہ بیانیہ شروع کیا تو اسوقت ملک میں بھارتی پراکسی وار اور ملک دشمن سوچ کے حامل افراد افواج پاکستان اور عوام کو آمنے سامنے لانے اور مکروہ پروپیگنڈے سے ملک کو تقسیم اور کمزور دکھانے پر تلے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر عشرت العباد نئی سوچ کے ساتھ پورے ملک میں چھوٹے چھوٹے پروگرام کے بعد مانسہرہ میں کنونشن، اسلام آباد کنونشن، کراچی میں بڑے بڑے پروگرام اور کراچی تا خیبر ہی نہیں گلگت بلتستان تک تنظیم سازی کرنے کے بعد حکومت کو احساس دلاتے رہے کہ گڈ گورننس کریں۔اپیکس کمیٹی کے اجلاس کریں، نیشنل ایکشن پلان پرعمل کریں۔ جسکے بعد صوبوں میں اپیکس کمیٹی اور وفاق کی سطح پر نیشنل ایکشن پلان پر بھی اجلاس ہوئے۔ جعفر ایکسپریس واقعات۔ کئی ایسے واقعات ہوئے جو ملک کے لئے چیلنج تھے۔بھارت نے ملک دشمن بیانیہ کے چند افراد کے پروپیگنڈے کو ملک کی تقسیم اور کمزوری سمجھ کر مئی میں پاکستان پر حملہ کیا۔ جسکا مسلح افواج اور قوم نے یکجا ہوکر بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔ چھ طیارے گرا کر بھارت کی کمر توڑ دی۔ بھارت نے دوبارہ میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا تو ایسا جواب دیا گیا کہ امریکہ کو بیچ میں ڈال کر مودی کو جنگ بندی کرانی پڑی۔ ڈاکٹر عشرت العباد کا بیانیہ میری پہچان پاکستان پوری قوم کا بیانیہ بن گیا۔ جو ملک کی سلامتی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ اب اس بات کی طرف کہ نئے انتظامی یونٹس بنانے کی بازگشت ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی کے علیم خان اسکی تائید کرچکے ہیں۔فیصل واوڈا اسکو قابل عمل قرار دے چکے ہیں۔کامران خان نے وی لاگ میں فیلڈ مارشل کو وعدے یاد دلائے ہیں۔ جبکہ کراچی کے تاجر صنعت کار اور تمام اسٹیک ہولڈرز انتظامی یونٹ لکا مطالبہ کرچکے ہیں۔ حالیہ بارشوں کے بعد کراچی میں احساس محرومی اور بڑھ گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں