جامعہ بلوچستان کے ہاسٹل میں رہائش پذیر ٹیچرز کی تنخواہوں سے غیرقانونی کٹوٹیاں فوری ختم کی جائیں،پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ

کوئٹہ(این این آئی) جامعہ بلوچستان کے بیچلر ٹیچرز ہاسٹل میں عارضی طور پر رہائش پذیر اساتذہ کرام اور آفیسران کا ایک نمائندہ اجلاس منعقد ھوا۔اجلاس میں اکیڈمک اسٹاف ایسوسیی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، پروفیسر عبدالباقی جتک، میڈم نویدہ، میڈم عائشہ، ڈاکٹر ماروی، قاضی منیر احمد، پروفیسر عزیز بلوچ، حسام قمبرانی۔ پروفیسر شاہد، معراج بلوچ، سعید خان، ڈاکٹر شبیر سمیت دیگر موجود تھے۔اجلاس میں اس امر پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان کی انتظامیہ نے گیس کے بلوں کی مد میں بیچلر ٹیچرز ہاسٹل میں رہائش پذیر اساتذہ کرام اور آفیسران سے غیرقانونی طور پر ماہانہ تنخواہوں سے ہزاروں روپے کٹوتی شروع کی حالانکہ رہائش پذیر اساتذہ کرام اور آفیسران سے ماہانہ گیس کے بل کی مد میں ماہانہ رینٹ میں ہر مہینے کٹو تیاں ھوتی رہی تھی لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے اب اچانک غیرقانونی طور پر دوبارہ کٹوتی کی اور دوسری طرف گذشتہ سال ٹیچرز ہاسٹل کے ایک چھوٹے سے کمرے کا ماہانہ کرایہ 1400 روپے سے بڑھا کر زبردستی دس ہزار روپے اور سویٹ کا ماہانہ کرایہ 2800 روپے سے بڑھا کر 15000 روپے کیا اب ان ماہانہ کرایوں میں سالانہ مذید 10 فیصد غیرقانونی اضافہ شامل کیا گیا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ ٹیچرز ہاسٹل میں سہولیات نا ھونے کی برابر ہیں جبکہ ماہانہ کرایوں میں غیرقانونی کٹوتیاں اور سالانہ دس فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بروز سوموار کو ٹیچرز ہاسٹل کے تمام رہائش پذیر اساتذہ کرام اور آفیسران جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر سے مل کر اپنی خدشات اور حقائق سے آگاہ کرینگے اور ان سے مطالبہ کرینگے کہ اس غیرقانونی کٹوٹیوں اور دس فیصد اضافے کو فورا منسوخ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں