خضدار(این این آئی)قبائلی عمائدین کی میڑھ، شہید محمد خان زہری کی دیت معاف، خضدار کے علاقے باغبانہ بھٹ میں ایک اہم قبائلی تقریب منعقد ہوئی، جس میں خضدار کے قبائلی عمائدین اور سرکاری حکام نے شہید محمد خان زہری کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور بلوچی رسم و رواج کے تحت میڑھ پیش کی۔ یہ تقریب جھالاوان کے روایتی اقدار اور امن کے قیام کی ایک روشن مثال ہے۔اس موقع پر قبائلی و سیاسی رہنما میر عبدالرحمن زہری، اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ کاکڑ، چیف آفیسر خضدار محمد صالح جاموٹ، آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین بشیر احمد جتک،نیشنل پارٹی کے سینئیررہنماء بدالحمید بلوچ، خضدار پریس کلب کے صدر عبداللہ شاہوانی سید ظہور احمد شاہ مفتی افتخار یمنی بی این پی عوامی کے میر سکندر شیخ ادریس زہری، عبدالوحد رند ایپکا رہنماء محمد اسلم زہری اور دیگر معززین خضدار سے تشریف لائے تھے۔ انہوں نے شہید کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور بلوچی روایات کے تحت حال حوال کیا۔تقریب میں شہید محمد خان زہری کے بھائیوں مجیب الرحمن زہری، حبیب الرحمن زہری، چاچا محمد اعظم زہری،میر نادر علی باجوئی میر ثناء اللہ زہری، جمیل احمد زہری، عبدالعزیز زہری، محمد عالم شیخ، میر محمد مشتاق، ماسٹر نور احمد، منظور احمد، حاجی عبدالحکیم سمیت دیگر علاقائی معتبرین موجود تھے۔ شہید کے اہلِ خانہ نے میڑھ قبول کرتے ہوئے بلوچی رسم و رواج کے مطابق شہید محمد خان زہری کی دیت معاف کردی۔واضح رہے کہ محمد خان زہری ایک سال قبل لیویز اہلکار کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے وہ متحدہ عرب امارات سے چھٹی پر خضدار آئے تھے جب یہ المناک واقعہ پیش آیا۔ اس تقریب کے انعقاد سے نہ صرف قبائلی روایات کی پاسداری کی گئی بلکہ امن و آشتی کے جذبے کو بھی فروغ دیا گیا۔یہ تقریب بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں صلح و مصالحت اور باہمی احترام کی ایک قابلِ فخر مثال ہے، جس سے علاقے میں امن و امان کے قیام میں مدد ملے گی۔خضدار کے علاقے باغبانہ بھٹ میں منعقد ہونے والی اس اہم قبائلی تقریب میں، جہاں شہید محمد خان زہری کے اہلِ خانہ نے بلوچی رسم و رواج کے تحت دیت معاف کی، متعدد اہم شخصیات نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس صلح نامے میں بی این پی عوامی کے سربراہ میر اسرار اللہ خان زہری نے مرکزی کردار نبھایا، جن کی کوششوں سے یہ ممکن ہوا کہ دونوں فریقین ایک پلیٹ فارم پر آئیں اور دیرینہ تنازع کو ختم کریں۔ اس کے علاوہ، ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی اور اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ کاکڑ نے بھی اہم رول پلے کیا۔ انہوں نے لیویز فورس کی قیادت کرتے ہوئے اس واقعہ کو انتہائی تحمل اور مزاجی سے نمٹایا، جس سے قبائلی روایات کی پاسداری کے ساتھ ساتھ سرکاری سطح پر امن کے قیام کو فروغ ملا۔یہ تقریب بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں صلح و مصالحت کی ایک مثال ہے، جہاں شرکاء نے اپنے خطابات میں امن، اتحاد اور روایتی اقدار پر زور دیا۔ تقریب میں شریک معززین نے بلوچی حال حوال کیا اور ایک دوسرے کی عزت افزائی کی۔ معززین نے مختصر خطابات اور بیانات کئے۔میر عبدالرحمن زہری کا کہنا تھاکہ آج کا یہ دن جھالاوان کی تاریخ میں ایک سنہری باب کا اضافہ ہے۔ ہمارے قبائلی رواج ہمیں بتاتے ہیں کہ انتقام کی بجائے معافی اور صلح ہی اصل طاقت ہے۔ شہید محمد خان زہری کے اہلِ خانہ نے جو عظیم الشان قدم اٹھایا ہے، وہ ہم سب کے لیئے ایک سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ اس صلح کو دیرپا بنائے اور ہمارے علاقے میں امن قائم رہے۔”اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ کاکڑکاکہنا تھاکہ سرکاری سطح پر ہماری ذمہ داری ہے کہ قبائلی تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔ اس واقعہ میں لیویز فورس نے مکمل تحمل کا مظاہرہ کیا، اور آج کی یہ میڑھ اس بات کی گواہی ہے کہ قانون اور روایات مل کر کام کریں تو کوئی مسئلہ حل نہ ہو۔ شہید کے خاندان کا شکریہ کہ انہوں نے امن کا راستہ اختیار کیا۔”چیف آفیسر خضدار محمد صالح جاموٹ* کا کہنا تھاکہ بلوچی رسوم ہماری شناخت ہیں، اور آج ہم نے انہیں زندہ رکھا ہے۔ یہ صلح نہ صرف دونوں خاندانوں بلکہ پورے علاقے کے لیئے خوش آئند ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اتحاد کی توفیق دے اور ایسے المناک واقعات سے بچائے۔*بشیر احمد جتک آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین* کا کہنا تھاکہ خضدار کے عوام امن چاہتے ہیں، اور یہ تقریب اس کی عکاسی کرتی ہے۔ ہم سب کو مل کر ایسے واقعات کو روکنا ہوگا۔ شہید کے اہلِ خانہ کی معافی ایک بہادری کا کام ہے، جو ہمارے معاشرے کو مضبوط بنائے گی۔عبدالحمید بلوچ رہنماء نیشنل پارٹی ک کہنا تھاکہ آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ ماضی کی تلخیوں کو دفن کریں۔ بلوچستان کی ترقی امن سے جڑی ہے، اور یہ میڑھ اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے۔”تقریب کے میزبانوں کی جانب سے شہید محمد خان زہری کے بھائیوں اور دیگر اہلِ خانہ نے معافی کا اعلان کرتے ہوئے مہمانوں کی عزت افزائی کی۔ انہوں نے خاص طور پر میر اسرار اللہ خان زہری کی کوششوں کی تعریف کی، جو اس صلح کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار تھے۔*جمیل احمد زہری* کا کہنا تھاکہ ہمارے عزیز محمد خان زہری کی شہادت ایک بڑا دکھ تھا، لیکن آج ہم اللہ کی رضا کے لیئے دیت معاف کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ ہمارے قبائلی رواج اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔ خاص طور پر نوب ثناء اللہ خان زہری اور میر اسرار اللہ خان زہری کی کوششوں کا شکریہ، جنہوں نے اس صلح کو ممکن بنایا۔ ان کی تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے درد کو سمجھا اور امن کا راستہ دکھایا۔ مہمانوں کا دل سے احترام کرتے ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہر فریق اسی طرح صلح کی جانب بڑھے۔*میر نادر علی باجوئی, میر ثناء اللہ زہری* آج کا دن ہمارے لیئے مشکل لیکن فخر کا ہے۔ ہم دیت معاف کر کے اپنے بھائی کی روح کو سکون دے رہے ہیں۔ میر اسرار اللہ خان زہری اور نوب ثناء اللہ خان زہری کی کاوشیں لائقِ تحسین ہیں، جن کی بدولت یہ ممکن ہوا۔ تمام مہمانوں کو عزت دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ خضدار میں امن کا دور شروع ہوگا۔”مجیب الرحمن زہری/ شہید محمد خان زہری کا کہنا تھاکہ میرے بھائی کی شہادت نے ہمارے دل کو زخمی کیا، تاہم صبر کے ذریعے ہم اللہ کی خوشنودی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ فیصلہ ہمارے خاندان کا متفقہ ہے۔ میر اسرار اللہ خان زہری کی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمارے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔ تمام آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ، جنہوں نے ہماری عزت کی اور حال حوال کیا۔ واضح رہے کہ محمد خان زہری ایک سال قبل لیویز اہلکار کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے۔ وہ متحدہ عرب امارات سے چھٹی پر خضدار آئے تھے جب یہ المناک واقعہ پیش آیا۔ اس تقریب کے انعقاد سے نہ صرف قبائلی روایات کی پاسداری ہوئی بلکہ علاقے میں امن و امان کو تقویت ملی۔ یہ واقعہ جھالاوان کے قبائلی نظام کی لچک اور صلح پسندی کی زندہ مثال ہے، جو مستقبل میں ایسے تنازعات کے حل کے لیئے راہنمائی فراہم کرے گی۔اس میڑھ میں لیویز لائن آفیسر نوراحمد حبیب، یاسین شاہوانی جانی پٹھان و دیگر شریک تھے۔

