وقاص مون
چند روز پہلے ہم کچھ دوست معمول کی گپ شپ میں مصروف تھے، کہ ہمارے ایک دوست ڈاکٹر ندیم کسی دوسرے کام میں مصروف ہو گئے۔ باتوں کا تسلسل ٹوٹا اور چند منٹ کی خاموشی چھا گئی۔ میں نے اپنی جیب سے اپنا موبائل فون نکالا اور فیس بک پر سکرولنگ کرنے لگا۔جہاں میں نے بہت سے اقوال کو پڑھے اچانک میری نظر سے ایک جملہ گزرا جو یوں تھا کتا تعلقی سے قطع تعلقی بہترہے۔ میرے لیے کتا تعلقی ایک نیا لفظ تھا میں نے اپنے پاس بیٹھے اپنے دوست سے کتا تعلقی کا معنی پوچھا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس کا کوئی خاص معنی نہیں ہے یہ شاعر کا ایجاد کیا ہوا لفظ ہے۔ اس کی بات سے میرا دل مطمئن نہ ہوا، یا یوں سمجھے کہ میں اس لفظ کا مطلب جاننے کے لیے بہت بے چین ہوگیا۔ اپنی اس بے چینی کو ختم کرنے کے لیے میں نے اپنے موبائل میں موجود اردو ڈکشنری کو اوپن کیا اور وہاں پر کتا تعلقی لفظ لکھ کر تلاش شروع کی ڈکشنری میں بھی مجھے بد قسمتی سے اس لفظ کا کوئی خاص معنی نہ مل سکا۔ گوگل پر بھی اسے بہت سرچ کیا لیکن مایوسی پھر میرا مقدر ٹھہری اسی بے چینی میں تھا کہ اس لفاظ کا کیا معنی ہو سکتا ہے تو میرے ایک دوست خان فہد خان نے مجھے کہاآپ ایک کام کرو آپ اس کی تلاش کرو اور پھر اس پر ایک تحریر لکھو تاکہ دوسرے بھی اس اصطلاح سے واقف ہوسکیں۔میں نے تب ہی اپنا ذہن بنا لیا تھا کہ ایسا ہی کرونگا۔پھر اس مقصد کیلئے جدوجہد شروع کی اور مختلف علمی وادبی شخصیات، کتابوں کی مدد جو مفہوم مجھے سمجھ آیا وہ آپ کے لیے تحریر کیے دیتا ہوں۔ ہمارے ہاں ایک عادت بہت عام ہے، بلکہ یوں کہیے کہ یہ عادت ہماری رگوں میں خون کی طرح دوڑتی ہے۔ کسی نے کان میں بات کہی اور ہم نے فوراً اسے ”وائرل” کر دیا۔ نہ یہ سوچا کہ یہ بات کہاں تک درست ہے، نہ یہ پرواہ کی کہ اسے آگے بڑھانے کے کیا نتائج ہوں گے۔ محلے کی گلی ہو، دفتر کا کمرہ ہو یا گھر کی بیٹھک، بس کان میں جملہ پڑتے ہی زبان کو پر لگ جاتے ہیں۔ اسے ہی پنجابی میں بڑے پیار سے ”کتا تعلقی” کہا جاتا ہے۔

