وحید احمد
مطالعہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی کسی چیز کو واقفیت حاصل کرنے کے لیے دیکھنا ہے، اصطلاحی مفہوم میں مطالعہ کا مطلب سمجھنے کی غرض سے غور و فکر کرنا، توجہ دینا، دھیان دینا، مشاہدہ کرنا اور بالخصوص کتب بینی ہے۔ مطالعہ درس وتدریس کے عمل میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور یہ طلباء کی ذہنی، سماجی، معاشرتی اور اخلاقی پرورش میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تعلیم و تعلم بالخصوص مطالعہ معاشی و معاشرتی ترقی کا زینہ ہے اور لائبریریاں علم کے گہوارے کا کردار ادا کرتی ہیں۔ لائبریری کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ہر طالب علم صاحبِ استطاعت نہیں ہوتا کہ نئی کتب خرید سکے، لیکن وہ یہاں بہترین کتب سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ترقی یافتہ اقوام کی کامیابیوں کا راز مطالعہ میں ہی پوشیدہ ہے اور اسی کی بنیاد پر وہ ستاروں پر کمندیں ڈالنے کے ساتھ ساتھ نئی دنیاؤں کو تسخیر کر رہے ہیں۔ لفظ لائبریری لاطینی زبان کے لفظ ”لائبر” سے ماخوذ ہے جس کا مطلب کتاب ہے اور لائبریری ایک ایسی عمارت کو کہا جاتا ہے جہاں پڑھنے یا مطالعہ کے لیے استعمال ہونے والی کتب، رسائل و جرائد اور اخبارات رکھے جاتے ہیں۔ لائبریری کی اہمیت مسلم ہے کیونکہ یہاں الہامی کتب، تفاسیر، کتب احادیث، محققین و مفکرین کی شہرہ آفاق تالیفات، مفسرین کی تحقیقات کا نادر علمی خزانہ، علوم و فنون پر روشنی ڈالتی تالیفات، عظیم ترین کتب کے تراجم، مصنیفین و مترجمین کی کتب، نثر نگاروں اور شعراء کرام کی آٹوگراف شدہ یا قلمی تخلیقات ایک ہی چھت تلے میسر آتی ہیں۔امریکن لائبریری ایسوسی ایشن کے مطابق امریکہ میں 1 لاکھ 24 ہزار 9 سو سے زائد پبلک لائبریریاں ہیں، برطانیہ میں 4 ہزار سے زائد، جرمنی میں 8 ہزار 8 سو سے زائد، چین میں 3 ہزار 3 سو سے زائد، ہمارے پڑوسی ملک انڈیا میں 70 ہزار سے زائد پبلک لائبریریز موجود ہیں جبکہ یہ ایک المیہ ہے کہ مسلم نشاۃِ ثانیہ کے امین ملکِ پاکستان میں پبلک لائبریریوں کی تعداد کے حوالے سے کوئی مستند معلومات سِرے سے دستیاب ہی نہیں ہیں۔ یہاں ایک اور بات قابلِ غور ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے کتب خانوں میں بھی چند ایک پبلک لائبریریوں کے بعد ”مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری” کا نام سرِفہرست آتا ہے جو ایک پرائیوٹ کتب خانہ ہے۔ چند ایک مشہور کتب خانوں میں نیشنل لائبریری آف پاکستان اسلام آباد، پنجاب پبلک لائبریری لاہور، قائداعظم لائبریری لاہور، لیاقت نیشنل میموریل لائبریری کراچی، گورنمنٹ سنٹرل لائبریری بہاولپور اور گورنمنٹ جناح پبلک لائبریری ساہیوال شامل ہیں۔جناح پبلک لائبریری ساہیوال کا قیام یکم مارچ 1987 کو عمل میں آیا جبکہ اس کی نئی عمارت کا سنگِ بنیاد 1991 میں رکھا گیا۔یہ لائبریری آرکائیوز اینڈ لائبریریز ونگ ایس اینڈ جی اے ڈی، ڈائریکٹوریٹ آف پبلک لائبریریز پنجاب کے تحت کام کر رہی ہے۔ اس لائبریری کا شمار پنجاب کی چند ایک بڑی لائبریریوں میں کیا جاتا ہے۔ لائبریری کا کل رقبہ 24 کنال ہے، اس کی عمارت دو منزلہ ہے جس میں دو ہال بھی شامل ہیں۔ لائبریری میں قارئین کی دلچسپی کے لیے مختلف گوشے قائم کیے گئے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کا گوشہ، جریدوں اور اخبارات کا گوشہ، حوالہ جاتی گوشہ، کمپیوٹر کا گوشہ، انگریزی اور اردوکے گوشے شامل ہیں۔اس کے علاوہ کتب کے نئے اضافہ کا ایک الگ سیکشن ہے جہاں کتابوں سے محبت رکھنے والے نئی آنے والی کتابیں نہ صرف دیکھ سکتے ہیں بلکہ انہیں پڑھ بھی سکتے ہیں۔ لائبریری میں اردو، انگریزی، پنجابی، سرائیکی، فارسی زبانوں کے علاوہ قرآنیات، سیرت النبیﷺ، احادیث، خلفائے راشدین، تاریخ اسلام، مذہب و فلسفہ، معیشت و سیاست، سماجی علوم، صحافت، ادب، جنرل نالج، اردو شاعری اور دیگر موضوعات پر 60 ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔ لائبریری میں 35 جرائد و میگزین اور 23 چوٹی کے اخبارات کی رکنیت بھی موجود ہے۔ یہاں پڑھنے کے لیے ائیرکنڈیشنڈ ریڈنگ روم، کتب کے اجراء کی خدمات، تحقیقی کام میں معاونت کے لیے جدید کمپیوٹر لیب، اسکالرز اور محققین کے لیے خصوصی سہولیات، کانفرنس ہال اور ای لائبریری سیکشن بھی موجود ہیں۔ چیف لائبریرین مسز نمیرا خورشید کے مطابق روٹری کلب ساہیوال کی معاونت سے 5 ڈبل سائیڈ بک شیلف لگائی گئی ہیں جبکہ 5 مطالعاتی گوشے (Study Carrels) عطیات کے ذریعے قائم کیے گئے ہیں۔ پینے کے صاف پانی کی سہولیات کے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹ بھی لگایا گیا ہے۔ اس کی سالانہ ممبرشپ فیس بچوں اور طلباء کے لیے نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ سینئر سٹیزن اور معذور افراد کے لیے ممبرشپ بالکل مفت ہے، لائبریری ممبرشپ کارڈ کا حصول انتہائی آسان ہے۔ یہاں طلباء و طالبات اور ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے اہم کتابوں کی فوٹوکاپی کی سہولت بھی موجود ہے۔ جناح لائبریری کے کل ممبرز کی تعداد 10 ہزار سے زائد ہے اس کے علاوہ یہاں طلباء و طالبات، اساتذہ، محققین، سکالرز اور تشنگانِ علم کی ایک کثیر تعداد روزانہ کی بنیاد پر وزٹ کرتی ہے۔ جناح لائبریری اہالیانِ ساہیوال اور گردونواح کے علم دوست لوگوں کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں۔ترقی یافتہ اقوام مطالعہ کی بنیاد پر ہی دنیا پر راج کر رہی ہیں اور مطالعہ کے لیے کتب خانے ناگزیر ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکِ پاکستان میں آبادی کے تناسب سے پبلک لائبریریوں کا قیام عمل میں لایا جائے اور طلباء و طالبات میں مطالعے کے فروغ کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تا کہ ہم بھی ترقی کی اس دوڑ میں صفِ اول کے ممالک میں شامل ہو سکیں۔

