کوئٹہ(این این آئی) نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر چہرمین اسلم بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ بدترین نوآبادیاتی نظام کا شکار ہے لیکن بلوچ نے کبھی بھی اس کالونیل ازم کو تسلیم نہیں کیا ان خیالات کا اظہار وہ ڈگری کالج کوئٹہ میں بی ایس او پجار کے زیراہتمام اسٹیڈی سرکل بعنوان بلوچ قوم کی شناخت اور نوآبادیاتی ریاست، سے خطاب کرتے ہوئے کی اس موقع پر بی ایس او پجار کے چہرمین بوہیر صالح بلوچ، وائس چہرمین بابل ملک بلوچ، عصمت بلوچ نے بھی خطاب کیا اسلم بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم دنیا کے اندر ایک باوقار قوم کی حیثیت سے اپنا وجود رکھتا ہے کیونکہ وہ وسائل سے مالا مال سرزمین بارہ سو کلومیٹر ساحل اور بے شمار وسائل کا مالک ہے اور اور جس خطے پر بلوچ آباد ہیں اس کا دنیا بھر میں انتہائی اہمیت کا حامل جغرافیائی اہمیت ہے ایک مضبوط زبان اور خوبصورت ثقافت رسم و رواج کا مالک ہے، اسلم بلوچ نے کہا کہ دنیا کے اندر نوآبادیاتی نظام آج بھی اپنے خطرناک شکل میں موجود ہے مگر دنیا کے اندر بہت سی ریاستوں نے نوآبادیات سے چھٹکارا حاصل کی ہے کسی زمانے میں امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک بھی برطانوی ریاست کے نوآبادت تھے آج اس تسلط سے آزاد ہیں بلکہ ترقی یافتہ بھی ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک نوآبادیات کے نوآبادیات ہیں پاکستان ایک کثیرالقومی ریاست ہے یہاں کوئی انتظامی صوبہ نہیں قومی وحدتیں ہیں اور پنجاب کی آبادی و اداروں میں بالادستی کی بدولت بلوچ سندھی اور پشتون کا نو آبادیات بناکر ان کے وسائل کو لوٹا جارہا اور اس کے ساتھ اس بالادستی کو قائم رکھنے کیلیئے ان کی زبان ثقافت اور رسم و رواج کو ختم کرنے کے لیئے نت نئے حربے استعمال کیا جارہا ہے مادری زبانوں میں تعلیم کے حصول کو شجر ممنوعہ قرار دی گئی ہے سیاسی اختیار سلب کیا گیا ہے یونیورسٹی کی سطع پر بلوچی براہوئی اور پشتو تعلیم ختم کی گئی ہے سیاسی بیگانگی پھیلانے کی دانستہ کاوشیں جاری ہیں تعلیمی اداروں میں منشیات کی تو اجازت ہے مگر سیاست پہ پابندی ہے لیکن بلوچ قوم بالخصوص بلوچ نوجوان اپنے ساحل وسائل زبان ثقافت کے تحفظ سے غافل نہیں پرامن سیاسی و جمہوری جدوجہد سے ان تمام عزائم کو ناکام بنادیا جاہیگا اس موقع پر چہرمین بی ایس او بوہیر صالح بلوچ، وائس چہرمین بابل ملک اور یونٹ سیکریٹری عصمت بلوچ نے بھی خطاب کیا اور اس امر کا اعادہ کیا کہ بی ایس او پجار تعلیم کے فروغ تعلیمی مسائل کے حل اور بلوچ سرزمین ثقافت اور زبان ساحل و وسائل کے تحفظ کے لیئے شعور و آگہی کے چشمہ کے طورپر کام کرنے کا عظیم قومی کردار ادا کرتا رہیگا۔ پرامن سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رہیگی۔اس موقع پر متعدد طلبا نے بی ایس او پجار میں شمولیت کا اعلان کیا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- حب: پاکستان ایران سرحدی تجارت کے فروغ پر ٹی ڈی اے پی کا ویبینار، گبد ریمدان اور تفتان بارڈر کھولنے، پھنسے کنٹینرز کی بحالی اور کولڈ اسٹوریجز کے قیام کا مطالبہ
- معاشرے میں کسی کی صلاحیت کو پہچاننا، اس کی محنت یا خدمت کا اعتراف کرنا بذات خود ایک بڑی سماجی خدمت ہے،گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل
- جمعیت علماء اسلام اختلاف رائے کو جمہوریت کا حسن سمجھتی ہے، سینیٹر مولاناعبدالواسع
- علاقے کے عوام کو درپیش مشکلات کا جلد خاتمہ ممکن بنانے کیلئے چشمہ پل کی تعمیراتی کام میں مزید تیزی لائی جائے،صوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ
- یونیسف کے پاکستان میں کنٹری آفس کے سیکیورٹی مینیجر پی سی او سید احمد عبداللہ کا بلوچستان کانسٹیبلری ہیڈ آفس کا دورہ
- روبینہ خالدسے سابق سینیٹر روزی خان کاکڑکی ملاقات
- بی ایس ڈی آئی پروگرام،نوجوانوں کیلئے 32 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے
- کوئٹہ اور گردونواح میں صفائی کی ابتر صورتحال شہریوں کیلئے وبال جان بن چکی،مولانا عبدالرحمن رفیق
- آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ، ستمبر میں 43 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی آمدن خوش آئند ہے،سینیٹر محمد عبدالقادر
- گوادر میں پاک چین مشترکہ منصوبے کا سنگ بنیاد، گدھوں کا گوشت اور کھالیں چین برآمد ہوں گی

