کراچی (اسٹاف رپورٹر ) رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا عشق دراصل انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی راہ کی جانب لے جانے والا سب سے آسان راستہ ہے اور نعت کی محفلیں ہم سب کے دلوں کو نور سے بھرنے کے ساتھ ساتھ مکمل رہنمائی بھی فراہم کرتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے انجمن شیدائیان رسولﷺ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی 36ویں سالانہ محفل نعت کے موقع پر کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دین ہمیں زندگی کی اعلی ترین روایات پر عمل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ انجمن شیدائیان رسولﷺ کے سربراہ رضوان صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اتنے اعلی پیمانے پر تواتر کے ساتھ نعت کی 36ویں محفلوں کا انعقاد اللہ کے فضل اور رسول کریمﷺکی کرم نوازی کی بدولت ہی ممکن ہو سکا ہے۔ محفل نعت سے خطاب کرتے ہوئے معروف مذہبی اسکالر اور سابق وفاقی وزیر انیق احمد نے کہا کہ اسلام اور رسول پاک کی تعلیمات انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور سلامتی کا پیغام پھیلانے کا کام کرتی ہیں۔ نعت کی ایسی یادگار محفل حضور اکرمﷺسے محبت کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس موقع پر عالم اسلام کے جن ممتاز ثناءخوانوں نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ان میں صدیق اسماعیل، محمود الحسن اشرفی، فیصل نقشبندی، شفیق احمد، قاری اسد الحق، شکیل مدنی، محمد شارق، سمیر اشرفی اور آفاق بشیر قادری شامل تھے۔ محفل نعت میں شہر کی جن نمایاں شخصیات نے شرکت کی ان میں واثق نعیم، اخلاق احمد، عارف سلیمان، حمزہ تابانی، رانا اشفاق رسول، ندیم ظفر صدیقی، ڈاکٹر فرحت اقبال،میجر کوثر کاظمی، عبدالباسط،ڈاکٹر عائشہ رضوی، ڈاکٹر طیبہ، مدیحہ رزاق اور دیگر نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- ہنگور کلاس آبدوز کیا ہے اور پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
- بچے آن لائن عمر کی حد سے بچنے کے لیے مصنوعی مونچھیں لگا رہے ہیں: رپورٹ
- امریکہ کا پاکستان کے ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈ کا کانٹریکٹ
- ہیکرز کو جرائم میں اے آئی استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا: تحقیق
- سندھ میں درجہ حرارت پھر سے بڑھنے لگا: ہیٹ ویو سے کیسے بچا جائے؟
- ہنتا وائرس کیا ہے اور اس کی علامات کیا ہوتی ہے؟
- مسجد الحرام میں ڈیجیٹل نظام متعارف: حجاج علما سے بات کر سکیں گے
- خالد مسعود خان کا نقطۂ اعتراض
- بزمِ درویش: تصوف اور روحانی فیض
- سانچ : معرکہ حق سے سفارتی فتح تک آپریشن بنیانِ مرصوص نے پاکستان کا وقار کیسے بلند کیا؟

