بنگلہ دیش کے اعلیٰ سول سرونٹس کے 12رکنی وفد کا آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کا دورہ، شاندار کلچرل نائٹ کا اہتمام

کراچی (رپورٹر) پاکستان اور بنگلہ دیش کے ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لیے بنگلہ دیش کے اعلیٰ سول سرونٹس کے وفد نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کا دورہ کیا۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے بنگلہ دیشی وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں آرٹس کونسل کے مختلف حصوں کا دودہ کراتے ہوئے ثقافتی سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اس موقع پر شاندار کلچرل نائٹ کا اہتمام کیا گیا جس میں شاندار میوزیکل اور ڈانس پرفارمنسز پیش کی گئیں ۔ رنگا رنگ میوزیکل نائٹ میں معروف الغوزہ نواز اکبر خمیسو خان نے سندھی لوک موسیقی پیش کرکے بنگلہ دیشی مہمانوں کے دل جیت لیے۔ ڈانس اکیڈمی کے سربراہ مانی چاؤ نے ’’بھرت ناٹیم‘‘ پر زبردست رقص کا مظاہرہ کیا۔ آرٹس کونسل کے طلبا پراتھنا، وقاص، ونود، پلواشہ، سارہ ہینسن نے پاکستانی معاصر رقص پیش کرکے اپنی پرفارمنس سے دھوم مچا دی۔ تقریب میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی موسیقی،وائلن سولو اور روایتی اور جدید انداز کے امتزاج پر مبنی ایشا تمثیل اور سنتھیا کی جانب سے لوک موسیقی پرفارمنس سمیت مختلف ثقافتی رقص بھی پیش کیے گئے جسے حاضرین کی جانب سے سراہا گیا اور فنکاروں کو تالیاں بجاکر خوب داد دی۔پروگرام میں ڈائریکٹر جنرل نیپا ڈاکٹر سیف الرحمن نے خصوصی شرکت کی۔ بنگلہ دیش کی جانب سےایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ سروسز ڈویژن سلمیٰ صدیقہ مہتاب نے 12رکنی وفد کی نمائندگی کی جس میں ڈائریکٹر جنرل (جوائنٹ سیکریٹری) وزارت تجارت محمد مصطفیٰ جمال حیدر، جوائنٹ سیکریٹری وزارت داخلہ احتشام الحق، جوائنٹ سیکریٹری وزارت پبلک ایڈمنسٹریشن ایم ڈی ابو ریحان میاں، توفیق امام، ریحان اختر، محمد عبدالسلام، جوائنٹ سیکریٹری کابینہ ڈویژن فیروز احمد، محمد منیر السلام، جوائنٹ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ ڈویژن شمس الحق، وزارت ڈیزاسٹر مینجمنٹ و ریلیف ڈاکٹر ایم ۔ڈی ظل الرحمن، بنگلہ دیش سول سروس ایڈمنسٹریشن اکیڈمی، وزارت پبلک ایڈمنسٹریشن کے MDS جوائنٹ سیکریٹری ضیا احمد سمن شامل تھے۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بے حد خوشی ہے کہ آج ہم سب ایک خوبصورت ثقافتی تقریب میں اکٹھے ہیں۔ گزشتہ سال ہم نے ورلڈ کلچر فیسٹیول کا انعقاد کیا، جو ہماری ثقافتی سرگرمیوں کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ ہم نے اٹھارہ سال بعد بنگلہ دیش کے فنکاروں کو مدعو کیا، جو ہمارے لیے نہایت اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ اس سے نہ صرف ثقافتی روابط مضبوط ہوئے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک نئی قربت بھی پیدا ہوئی۔ہم بنگلہ دیش کی حکومت سے بھی رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرٹسٹ کا رشتہ ہمیشہ آرٹ سے جڑا ہوتا ہے۔ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اور یہی خوبصورتی ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ میں سلمیٰ صدیقہ سمیت بنگلہ دیش سے آنے والے تمام معزز اعلیٰ سول سرونٹس اور مہمانوں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں۔امید ہے کہ یہ تقریب پاکستان اور بنگلہ دیش کے ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ نیپا کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سیف الرحمن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کی شام واقعی بہت خوبصورت اور یادگار ہے جس کا سہرا یقیناً آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ کی کاوشوں کو جاتا ہے، جن کی محنت اور وژن نے اس محفل کو ممکن بنایا۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ایک ایسا ادارہ ہے جو آرٹ اور کلچر کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ یہاں نہ صرف اردو بلکہ پاکستان کی دیگر زبانوں، ثقافتوں، ادب اور فنونِ لطیفہ کی بھرپور نمائندگی نظر آتی ہے۔ یہ سب کچھ احمد شاہ کی مسلسل محنت اور لگن کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں ہر فرد کو اپنے خیالات، اپنی صلاحیتوں اور اپنے فن کے اظہار کا موقع ملتا ہے۔میں آرٹس کونسل کی مینجمنٹ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے اس خوبصورت تقریب کا انعقاد کیا اور ہمیں اس کا حصہ بننے کا موقع دیااور میں اپنے بنگلہ دیش سے آئے ہوئے دوستوں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہ شام ہم سب کے لیے یادگار ثابت ہوگی۔صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے بنگلہ دیشی وفد کی شاندار نمائندگی کرنے پر ایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ سروسز ڈویژن سلمیٰ صدیقہ مہتاب کو سندھ کی ثقافتی اجرک اور گلدستہ پیش کیا جبکہ ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے پر سیف الرحمن نے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کو شیلڈ دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں