مسلّط صوبائی حکومت کی ناقص پالیسیوں،غیر سنجیدہ رویئے نے عوام کو دو وقت کی روٹی کیلئے سخت مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

کوئٹہ (این این آئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی پریس ریلیز میں صوبے بھر میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اور بے تحاشا اضافے پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ مسلّط کردہ صوبائی حکومت کی ناقص پالیسیوں اور غیر سنجیدہ رویے نے عوام کو دو وقت کی روٹی کے لیے بھی سخت مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ آج عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا مزید مشکل بنا دیا گیا ہے اور صوبائی حکومت سمیت متعلقہ ادارے آٹے کے بحران کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ صرف گزشتہ دو ہفتوں میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 700 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق 20 کلو آٹے کا تھیلا 2000 روپے سے بڑھ کر 2300 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔گندم کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ براہِ راست آٹے کی قیمت پر اثر انداز ہورہا ہے، لیکن حکومت نے اس بحران کو روکنے کیلئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔بیان میں کہا کہ صوبے بھر میں پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور متعلقہ مجسٹریٹ اپنے فرائض کی انجام دہی میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ عوام کو بے لگام منافع خوروں کیرحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ حکومت اور اس کے ادارے صرف تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ اگر آٹے اور گندم کی قیمتوں کو فوری طور پر کنٹرول کرنے کیلئے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید شدت اختیار کرے گا جس کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔مصنوعی قلت پیدا کرنے والے آٹا مل مالکان اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔بیان میں مزید کہاگیا ہیں کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور مجسٹریٹ کو فعال بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔عوامی مفاد میں آٹے کی قیمتوں میں کمی کیلئے فوری سبسڈی دی جائے۔اور اگر حکومت نے سنجیدہ اور فوری اقدامات نہ کیے تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اپنے عوام کی تائدوحمایت سیبرپوراحتجاج کیا جائیگا اور غریب عوام کو ریلیف دلایا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں