سبی میں بھی آل پارٹیز کے اپیل پر شہر میں مکمل شٹرڈاون اور پہیہ جام ہڑتال

سبی(این این آئی) بلوچستان کی طرح سبی میں بھی آل پارٹیز کے اپیل پر شہر میں مکمل شٹرڈاون اور پہیہ جام ہڑتال رہی جس کی وجہ سے کارو بار زندگی مفلوج رہا جبکہ شہر میں چائے اور کھانے کے ہوٹلیں بند رہنے کی وجہ سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا رہا تفصیلات کے مطابق 2ستمبر کو سردار عطاء اللہ جان مینگل مرحوم کی برسی کے موقع پر خود کش حملے کے خلاف بلوچستان کی آٹھ سیاسی پارٹیوں کے اپیل پر سبی کی تمام ٹرانسپورٹرز یونین اور انجمن تاجران کے تعاون سے شہر میں مکمل شٹرڈاون ہڑتال اور پہیہ جام کیا گیاجبکہ ہڑتال کے باعث شاہراہیں سنسان اور اندرون شہر میں ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی اس موقع پر آل پارٹیز کے مقامی لیڈروں یعقوب بلوچ،سید نور احمد شاہ،میر اسلم گشکوری،مولانا ادریس رند،سعید خان خجک،ملک اقبال مرغزانی،ملک سلطان دہپال،ملک فقیر محمد مرغزانی،مولانا یحیٰی مرغزانی،ڈاکٹر جلال خان خجک، سیف اللہ رند و دیگر کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھے، جبکہ آل پارٹیز کے کارکن ٹولیوں کی صورت میں موٹر سائیکلیوں پر مختلف شاہراوں کا گشت کرتے رہے اس موقع پر مقامی رہنماووں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تمام سیاسی پارٹیاں محب وطن اور صوبے سے محبت کرنے والے لوگ ہیں انہوں نے کہا کہ ہم کھبی نہیں چاہیں گے کہ بلوچستان میں دہشت گردی ہو اور بے گناہ لوگوں کے خون بہایا جائے لیکن حکومت جان بوجھ کر ماحول خراب کررہی ہے انہوں نے کہا کہ نا اہل صوبائی حکومت میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ عوام کے سامنے سچ لا سکے بی این پی کے جلسے کو سیکورٹی اور تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری حکومت سچ عوام کے سامنے لائے کہ خود کش حملہ آور جلسہ گاہ تک کیسے پہنچا انہوں نے کہا کہ اب اداروں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اگر بلوچستان میں امن و امان چاہتے ہیں تو اس کا واحد حل غیر جانبدارانہ الیکشن ہیں کیونکہ بلوچستان میں بہت سے حقیقی سیاسی لیڈر اب بھی بلوچستان کا مسلہ چند مہینوں میں حل کر سکتے ہیں لیکن فارم 47کی حکومت کو بلوچستان کے عوام پر مسلط کر کے قبائل کو آپس میں دست گریباں کروایا جارہا ہے۔مقررین نے کہا کہ بلوچستان کی تمام سیاسی لیڈر شپ اور کارکن محب وطن اور ملک سے پیار کرنے والے لوگ ہیں لیکن ہمیں کسی سے محب وطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں لیکن ہم واضع کرنا چاہتے ہیں کہ اگر بلوچستان میں اسی طرح آگ اور خون کی حولی جاری رہی تو پھر صوبے میں مذید نفرتیں پھیلیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں