کراچی(این این آئی)سابق وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی کے سینئررہنمامفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ پالیسی ریٹ میں کمی سے معیشت سنبھلے گی مگر روپے پر دباؤ بڑھے گا۔سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ افراط زر موجودہ مالیاتی سال کے پہلے دو مہینوں میں ساڑھے3 فیصد رہی، افراط زر آئندہ مہینوں میں 6 فیصد کے قریب رہ سکتی ہے جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی ریٹ میں کمی سے کاروبار کیلئے قرضے سستے ہوں گے جس سے سرمایہ کاری بڑھے گی، معاشی سرگرمیوں میں اضافے سے ملکی درآمدات بڑھے گی اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ دباؤ کاشکار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ روپیہ پہلے ہی سرکاری بجٹ خساروں اور عالمی قرضوں کی ادائیگی سے دباؤ کا شکار ہے،حکومت روپے کی قدر مستحکم رکھنا چاہتی ہے مگر روپے کی گراوٹ مہنگائی میں مزید اضافہ کرے گی، روپے کی قدر پر دباؤ سے اوپن اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے دام میں دس روپے کا فرق پیدا ہوگیا ہے۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ انٹربینک ریٹ کو مصنوعی طور پر نیچے رکھنے سے برآمدات متاثر ہو رہی ہیں، ترسیلاتِ زر حوالہ ہنڈی مارکیٹ کی طرف منتقل ہورہی ہیں، حکومت قرضے لے کر ڈالر فروخت کرنے کے بجائے ایل سیز کی تاخیر جیسے اقدامات کررہی ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو مہنگائی کنڑول کرنے کیلئے شرح سود میں تبدیلی کے فیصلے میں توازن رکھنا ہوگا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- ہنگور کلاس آبدوز کیا ہے اور پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
- بچے آن لائن عمر کی حد سے بچنے کے لیے مصنوعی مونچھیں لگا رہے ہیں: رپورٹ
- امریکہ کا پاکستان کے ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈ کا کانٹریکٹ
- ہیکرز کو جرائم میں اے آئی استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا: تحقیق
- سندھ میں درجہ حرارت پھر سے بڑھنے لگا: ہیٹ ویو سے کیسے بچا جائے؟
- ہنتا وائرس کیا ہے اور اس کی علامات کیا ہوتی ہے؟
- مسجد الحرام میں ڈیجیٹل نظام متعارف: حجاج علما سے بات کر سکیں گے
- خالد مسعود خان کا نقطۂ اعتراض
- بزمِ درویش: تصوف اور روحانی فیض
- سانچ : معرکہ حق سے سفارتی فتح تک آپریشن بنیانِ مرصوص نے پاکستان کا وقار کیسے بلند کیا؟

