دوحہ میں حماس رہنماؤں پر بزدلانہ اسرائیلی حملہ، عالمی قوانین کی خلاف ورزی: قطر

قطر نے منگل کو ایک بیان میں اسرائیل کی جانب سے دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنائے جانے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے آج ایک بیان میں کہا کہ اس نے ایک حملے میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا ہے۔

روئٹرز کے مطابق آج قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ایک عینی شاہد کے مطابق دارالحکومت کے کتارا ڈسٹرکٹ کے اوپر دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔

اسرائیلی چینل 14 نے ایک سینیئر اسرائیلی عہدے دار کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے قطر میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا ہے، جن میں خلیل الحیہ اور ظہیر جبارین شامل ہیں اور نتائج کے منتظر ہیں۔‘

اسرائیلی چینل 14 کے مطابق یہ حملہ جنگی طیاروں سے کیا گیا۔

اسرائیلی فوج نے ایکس پر جاری بیان میں کہا آئی ڈی ایف اور آئی ایس اے نے حماس کی سینیئر قیادت کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ’مقررہ حملہ‘ کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حملے سے قبل عام شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے اقدامات کیے گئے، جن میں درست ہتھیاروں کے استعمال اور اضافی انٹیلیجنس شامل ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ’ریاستِ قطر اسرائیل کے بزدلانہ حملے کی سخت مذمت کرتی ہے، جس میں دارالحکومت دوحہ میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں حماس کے سیاسی بیورو کے کئی ارکان مقیم تھے۔

’یہ مجرمانہ حملہ تمام بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی صریح خلاف ورزی ہے اور قطری شہریوں اور وہاں مقیم افراد کی سلامتی و تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز، سول ڈیفنس اور متعلقہ اداروں نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے واقعے کے اثرات کو قابو میں لانے اور شہریوں و قریبی علاقوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

’اگرچہ ریاستِ قطر اس حملے کی شدید مذمت کرتی ہے لیکن وہ اس غیر ذمہ دارانہ اسرائیلی رویے، خطے کی سلامتی میں مسلسل خلل ڈالنے اور اپنی خودمختاری و سلامتی کو نشانہ بنانے والے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کرے گی۔‘

بیان کے مطابق اعلیٰ سطح پر تحقیقات جاری ہیں اور جیسے ہی مزید تفصیلات دستیاب ہوں گی انہیں جاری کر دیا جائے گا۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق حماس کی جلاوطن قیادت طویل عرصے سے قطر میں موجود ہے، جہاں قطر کئی برسوں سے، حتیٰ کہ غزہ میں حالیہ جارحیت سے قبل بھی، حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں