قلعہ سیف اللہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی خواہ مذہب کے نام پر ہو یا قومیت کے نام پر، اس کا عوامی حقوق اور ترقی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ظلم، بربریت اور کھلی ملک دشمنی ہے بلوچستان کے عوام دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں اور کسی صورت دہشت گردوں کے سامنے سرنڈر نہیں کیا جائے گا وہ قلعہ سیف اللہ میں رکن صوبائی اسمبلی مولوی نور اللہ کی دعوت پر منعقدہ ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر میزبان مولوی نوراللہ سمیت اراکین اسمبلی صوبائی وزراء اور نواب ایاز خان جوگیزئی سمیت قبائلی عمائدین، علماء اور عوام کی ایک بڑی تعداد موجود تھی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مولوی نور اللہ نے کبھی اپنی ذات کے لیے مطالبہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ عوامی مسائل اور حلقے کے مفادات کے لیے آواز بلند کی، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ قلعہ سیف اللہ کو اپنا گھر سمجھتے ہیں اور عوام سے ملنے کے لیے ہر مشکل کو خاطر میں نہیں لاتے یہیں سے اکثر اوقات ان کا گزر رہا ہے اور یہیں عزیز دوست ہیں انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر بندوق اٹھانے والے دراصل دین کے دشمن اور ظالم ہیں، اسلام امن، بھائی چارے اور رواداری کا دین ہے۔ اسی طرح بلوچ قوم پرستی یا حقوق کے نام پر ہتھیار اٹھانے والے بھی محض ملک توڑنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور معصوم انسانوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں اور مسافروں کا قتل ناقابلِ معافی جرم ہے وزیراعلیٰ نے کوئٹہ میں سیاسی جلسے پر حالیہ خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن دہشت گردی کے خلاف پورا بلوچستان متحد ہے دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا انہوں نے متاثرہ جماعت کے قائدین، رہنماؤں، کارکنوں اور جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری اور سیاسی جماعت کا بنیادی حق ہے مگر سڑکوں کی جبراً بندش، ٹائر جلانا اور عوام کو اذیت میں مبتلا کرنا آئین و قانون کے منافی ہے انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی کو بھی مریضوں، مسافروں اور عام شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے اور آئین و قانون کے ساتھ کھڑے رہیں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے رکن صوبائی اسمبلی مولوی نور اللہ کے مطالبات پر قلعہ سیف اللہ و گرد و نواح کے لیے متعدد ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کیے انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں انتظامی بنیادوں پر نئے اضلاع قائم کیے جارہے ہیں اور انشاء اللہ مسلم باغ کو بھی جلد ضلع بنایا جائے گا اسی طرح قلعہ سیف اللہ میں دانش اسکول وہیں قائم کیا جائے گا جہاں وزیر اعظم پاکستان نے اعلان کیا ہے، تاہم عدلیہ کے فیصلے کو مقدم رکھا جائے گا وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ سرکی روڈ (مرغا فقیر سے کرم تک) اور جوشن نرئی تا ایشوت روڈ کے منصوبے فزیبلٹی کے بعد وسائل کی فراہمی پر مکمل کیے جائیں گے انہوں نے فٹبال اسٹیڈیم کے لیے ایک ٹریکٹر بمعہ مشین، تماشائیوں کے لیے شیڈز، کھلاڑیوں کے آلات اور گراؤنڈ کی دیکھ بھال کے لیے 50 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان بھر میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا جارہا ہے تاہم لیویز ہو یا پولیس قلعہ سیف اللہ کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی عوام کا ہے، کسی کو ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی البتہ بین الاقوامی ماہرین صرف وہاں شامل ہوں گے جہاں مقامی استعداد ناکافی ہو۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر کسی کو قبضہ کرنے نہیں دیا جائے گا، سرفراز بگٹی عوام کا محافظ بن کر کھڑا رہے گا وزیر اعلیٰ نے کان مہترزئی ڈیم کی تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے ضیاع کو روکنے اور مستقبل کے بحران سے بچنے کے لیے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے انہوں نے کہا کہ باتینئی گیٹ اور بازارلی ٹرمینل کی تعمیر قومی ضرورت ہے اس سے وسطی ایشیا اور پنجاب کے ساتھ تجارتی روابط میں آسانی پیدا ہوگی وفاقی حکومت اس منصوبے پر کام کر رہی ہے اور جلد اس کی تکمیل متوقع ہے خطاب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مولوی نور اللہ، نواب ایاز خان جوگیزئی اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قبائلی احترام اور بھائی چارے کا رشتہ اٹوٹ ہے کوئی طاقت اسے ختم نہیں کرسکتی انہوں نے جلسے میں شریک عوام کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا۔

