ضلع چاغی کے مرکزی شہر دالبندین اور اس کے مضافاتی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال دن بدن بگڑتی جارہی ہے، عوامی حلقے

دالبندین (این این آئی) ضلع چاغی کے مرکزی شہر دالبندین اور اس کے مضافاتی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال دن بدن بگڑتی جارہی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے امن قائم رکھنے کے بجائے حالات مزید خراب ہورہے ہیں۔گزشتہ روز عرب چوک کے قریب سڑک پر کام کرنے والے مزدوروں پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں عبدالسلام جتوئی نامی شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویشناک حالت میں کوئٹہ ریفر کردیا گیا۔ اس واقعے نے شہریوں کو سخت خوف و ہراس میں مبتلا کردیا ہے۔اس سے قبل بھی ضلع میں پرتشدد کارروائیاں سامنے آچکی ہیں۔ چند ہفتے پہلے چاغی روڈ پر سڑک کی تعمیر میں استعمال ہونے والے ٹریکٹروں کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی، جبکہ چاغی کو پانی سپلائی کرنے والی پائپ لائن کو بھی نامعلوم افراد نے جلا ڈالا۔ اسی طرح تالوں لانڈھی کے قریب دو ویگن گاڑیاں مسلح افراد نے بندوق کے زور پر چھین کر فرار ہوگئے۔عوامی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ ان واقعات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ شہر اور نواحی علاقوں میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں عام ہوتی جارہی ہیں۔ گزشتہ روز کلی داؤد آباد میں آغا عبداللہ جان مسجد کے قریب دو موٹر سائیکل سواروں نے ایک نمازی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے بعد اس سے موبائل فون اور نقدی چھین کر بآسانی فرار ہوگئے۔ اس طرح دن دہاڑے بھی عوام محفوظ نہیں رہے۔اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے بعد سیکیورٹی مزید بہتر ہونے کے بجائے حالات بگڑ گئے ہیں اور لوگ مسلسل خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ غربت کے ستائے عوام کو موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کے الزام میں روکنے کے بجائے اصل مجرموں کو گرفتار کرکے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔عوامی حلقوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو امن و امان کی یہ بگڑتی صورتحال پورے خطے کے لیے ایک بڑے چیلنج کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں