لسبیلہ کینال واٹر ٹریکٹرز مافیا کے حوالے، حب میں پانی بحران شدت اختیار کرگیا

حب (رپورٹ :عبدالغنی رند) محکمہ ایریگیشن نے لسبیلہ کینال کو مبینہ ملی بھگت کے سبب واٹر ٹریکٹرز مافیا کے حوالے کردیا ہے جہاں روزانہ سینکڑوں واٹر ٹریکٹرز غیر قانونی طور پر پانی بھر کر شہر میں مہنگے داموں فروخت کررہے ہیں، ذرائع کے مطابق کینال سے پانی بھرنے کے عوض محکمہ ایریگیشن کے اہلکار فی ٹریکٹر سو سے دو سو روپے وصول کرکے افسران کی جیبیں گرم کررہے ہیں، لاتعداد ٹریکٹرز کی آمد و رفت کے باعث کینال بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے، اگرچہ حکومت بلوچستان نے کینال کی مرمت کے لیے دو کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے لیکن دوسری جانب غیر قانونی طریقے سے پانی بھرنے کی اجازت دے کر کینال کو مزید نقصان پہنچایا جارہا ہے، بتایا جاتا ہے کہ ایریگیشن افسران نے مبینہ بھتہ خوری کے لیے اہلکاروں کے ساتھ کچھ پرائیویٹ افراد بھی رکھے ہیں جو ٹریکٹرز سے رقوم وصول کرکے بالا افسران تک پہنچاتے ہیں، دارو ہوٹل کے مقام پر واٹر ٹریکٹرز کو کینال سے پانی بھرنے کی اجازت نے صورتحال مزید سنگین بنادی ہے جبکہ سرکاری ہائیڈرنٹس موجود ہونے کے باوجود وہاں سے پانی فراہم نہیں کیا جارہا، روزانہ بھاری رشوت دیکر واٹر ٹریکٹرز کی قطاریں کینال سے پانی چوسنے میں مصروف عمل ہیں جس کے نتیجے میں کینال کنارے ٹوٹ چکے ہیں اور یومیہ لاکھوں روپے سرکاری خزانے کے بجائے افسران کی جیبوں میں جارہے ہیں، اس غیر قانونی دھندے میں ہائیٹ پولیس کی آشیر باد بھی واٹر ٹریکٹرز مافیا کو حاصل ہے، دوسری جانب محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی ناقص کارکردگی اور مبینہ بھتہ خوری کے باعث حب شہر میں پانی کا بحران پیدا کردیا گیا ہے، حب ڈیم پانی سے بھرا ہوا ہے لیکن چند لاکھ آبادی والے شہر میں بیشتر علاقوں میں واٹر سپلائی کی لائنیں موجود ہی نہیں ہیں اور جہاں ہیں وہ سالوں سے زنگ آلود اور بوسیدہ ہوچکی ہیں، شہریوں کو پانی فراہم کرنے کے بجائے سروس اسٹیشنز کو پانی دیا جاتا ہے تاکہ افسران مبینہ ماہانہ بھتہ وصول کرسکیں، لسبیلہ کینال سے واٹر ٹریکٹرز کی غیر قانونی سرگرمیوں پر نیشنل پارٹی کے رہنما اور میونسپل کارپوریشن حب کے کونسلر حافظ رسول بخش بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے، سرکاری ہائیڈرنٹس ہونے کے باوجود محض ذاتی مفاد کے لیے کینال سے پانی بھرنے کی اجازت دی گئی ہے،حافظ رسول بخش بلوچ نے کہا کہ لسبیلہ کینال کی حفاظت کے لیے تعینات کی جانے والی سیکیورٹی بھی غائب ہے، جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے واٹر ٹریکٹرز مافیا بلا خوف و خطر کینال سے پانی بھرنے میں مصروف ہے، نہ کوئی چیک اینڈ بیلنس ہے اور نہ ہی محکمہ ایریگیشن کی کوئی عملی نگرانی، یہی وجہ ہےکہ غیر قانونی سرگرمیوں نے کینال کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ اگر کینال کی حفاظت کے لیے مستقل سیکیورٹی اور سخت نگرانی کا نظام نہ بنایا گیا تو لسبیلہ کینال جلد ہی مکمل طور پر ناکارہ ہوجائے گا ،انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان، میر عکی حسن زہری ، چیئرمین میونسپل کارپوریشن حب ، سیکریٹری ایریگیشن، کمشنر قلات ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر حب سمیت اعلیٰ حکام سےفوری نوٹس لینے اور واٹر ٹریکٹرز کی غیر قانونی طریقے سے پانی بھرنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا

اپنا تبصرہ بھیجیں