شیرانی ٹاؤن حملے میں مغوی لیویز اہلکار کی جلد اور باحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے،حاجی محمد حسن شیرانی

ژوب(این این آئی)آل پارٹیز ایکشن کمیٹی ڑوب شیرانی کے رہنماؤں حاجی محمد حسن شیرانی سابق سنیٹر رضا محمد رضا قاضی احمد خوستی جمال خان مندوخیل ملک امان اللہ حریفال عبدالقیوم ایڈوکیٹ عبدالجبار عرف طور مندوخیل نے سیاسی و قبائلی عمائدین کے ہمراہ پرہجوم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیرانی ٹاون حملے میں مغوی لیویز ایلکار محمد اعظم شیرانی کی جلد اور باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ شیرانی ٹاون ہیڈ کوارٹر کے لیویز اور پولیس تھانوں میں چار اور سات اہلکاروں کی تعنیاتی سمجھ سے بالاتر ہے لیویز تھانے میں تعنیات اہلکاروں کے پاس انتہائی کم تعداد میں ناقص اسلحہ اور چند راونڈز تھے جبکہ حملہ آور انتہائی جدید اسلحہ سے لیس تھے شیرانی میں لیویز کے سات سو اہلکار تعینات ہے مگر ہیڈ کوارٹر میں بمشکل چار اہلکاروں کی تعنیاتی سوالیہ نشان ہے یہ دراصل علاقے کی حالات کو خراب کرنے کی ایک منظم سازش سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ سے زائد دن ہو گئے ہیں مگر تاحال مغوی لیویز اہلکار اعظم شیرانی کی بازیابی کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آ رہے ہیں مغوی اہلکار کی بازایابی کیلئے شاہراہوں کی بندش شٹر ڈاؤن پہہ جام ہڑتال اور کمشنر ڑوب ڈویڑن کے دفتر کے باہر دھرنا دینے سمیت ہر قسم کی احتجاج کرنے سے دریغ نہیں کرینگے انہوں نے کہا کہ اغواکاروں نے لواحقین سے تاحال کسی قسم کا رابطہ یا ڈیمانڈ نہیں کی ہے حملے کا یہ واقعہ کسی فرد کا نہیں بلکہ یہ ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی عدم توجہی کے نتیجے میں شیرانی ٹاون ہیڈ کوارٹر ویران پڑا ہے تمام دفاتر اور افیسران ڑوب سے شیرانی کو چلا رہے ہیں انہوں نے مغوی لیویز اہلکار اعظم شیرانی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے تمام تر حقائق سے عوام کو آگاہ کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں