صحبت پور میں صحافیوں پر جھوٹے مقدمات قابلِ قبول نہیں، انتظامیہ پر تنقید

بختیارآباد ڈومکی پریس کلب (ر) بختیارآباد ڈومکی پریس کلب رجسٹرڈ کے صحافی صدر اللہ یار ڈومکی ، جنرل سیکرٹری ملک ریاض بلوچ, نائب صدر لیاقت علی ڈومکی, محمد رمضان بھٹو, محمد اسلم مینگل و دیگر عہددارن نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صحبت پور انتظامیہ کی جانب سے وہاں کے مقامی سینئر صحافیوں کے خلاف ناجائز درج کی گئی ایف آئی آر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر ایک سنگین حملہ قرار دیا ہے انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ صحبت پور کے مقامی صحافی مشتاق عزیز کھوسہ, جمل خان بلوچ اور حوران خان جھکرانی پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کا مقصد صحافیوں کو خاموش کرانا اور دباؤ میں لانا ہے انہوں نے کہا ہے کہ صحبت پور کے صحافیوں نے ہمیشہ حق و سچ کا ساتھ دیتے ہوۓ عوام کی آواز بلند کی ہے اور مجبور و لاچار غریب عوام کی آواز حکومتی ایوانوں تک پہنچائی ہے ان کی دادرسی کےلیے انتظامیہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جس کی وجہ سے صحبت پور انتظامیہ نے صحافیوں کا گلہ دبانے اور ان کی آواز ختم کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے جس کی بختیارآباد ڈومکی پریس کلب (ر) کے صحافی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ حق و سچ لکھنے والے صحافیوں کے خلاف صحبت پور انتظامیہ کی ایسی انتقامی کارروائیاں نہ صرف آزادی اظہار پر قدغن ہیں بلکہ یہ جمہوریت کی بنیادوں کو بھی کمزور کرنے کے مترادف ہیں ان کا کہنا تھا کہ صحافت کا کام سوال اٹھانا اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنا ہے، اور اس عمل کو دبانے کے لیے ایف آئی آر جیسے ہتھکنڈے سراسر قابلِ مذمت ہیں انہوں نے کہا کہ صحبت پور انتظامیہ اپنے آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے اور ضلع میں اپنی پوسٹنگ برقرار رکھنے کےلیے صحافیوں پر جھوٹے مقدمات درج کرنے کے بجاۓ امن و امان پر توجہ دیں اور اپنے علاقے سے جوا کے اڈے, منشیات کے اڈے سمیت دیگر ناجائز قائم کیے گئے اڈے ختم کرانے کے لیے اقدامات کرے اور علاقے میں امن و امان بحال کرکے اپنی رٹ بحال کرنے اور علاقے میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی کوششیں کرے تاکہ علاقے سے جرائم کا خاتمہ ہو سکے انہوں نے مقامی انتظامیہ کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوۓ کہا ہے کہ انتظامیہ علاقے کے بااثر افراد کی غلام بن چکی ہے اور انتظامیہ کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کی بجاۓ صحافی برادری کے خلاف ناجائز مقدمات درج کرنے پر لگی ہوئی ہے جو کہ صحافی برادری کے ساتھ سراسر ظلم و زیادتی ہے انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں آئی جی پولیس بلوچستان , ڈی جی لیویز بلوچستان، وزیر داخلہ بلوچستان سے فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوے کہا ہے کہ صحبت پور کے مقامی صحافیوں کے خلاف درج جھوٹے مقدمات فی الفور واپس لیے جائیں اور اگر متعلقہ اداروں نے ناجائز درج مقدمات ختم نہ کیے تو مجبورا” صحافی برادری بلوچستان بھر میں احتجاج کی کال دیتے ہوۓ اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کرےگی جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں