چاغی، گردونواح میں مقیم دس ہزار سے زائد افغان مہاجرین طویل قیام کے بعدافغانستان لوٹ گئے

دالبندین(این این آئی)چاغی اور اس کے گردونواح میں کئی دہائیوں سے مقیم دس ہزار سے زائد افغان مہاجرین طویل قیام کے بعد بالآخر اپنے ملک افغانستان واپس لوٹ گئے۔ واپسی پر وہاں پہنچنے والے مہاجرین نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو پاکستان میں موجود افغانوں تک پیغام پہنچایا اور اپنی حالت زار سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وطن واپس جا کر انہیں سخت حالات کا سامنا ہے۔ افغانستان میں پہلے سے آباد مقامی باشندے اپنے علاقوں میں واپس آنے والوں کو جگہ دینے سے گریز کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے غریب خاندان شدید مشکلات میں مبتلا ہیں۔ مکانات کے کرائے اچانک تین گنا بڑھا دیے گئے ہیں اور مزدوروں کو دن بھر کی سخت مشقت کے عوض محض ڈیڑھ سو افغانی اجرت ملتی ہے جو گزر بسر کے لیے ناکافی ہے۔ کئی بے سہارا خاندان عورتوں اور بچوں سمیت درختوں کے نیچے رات بسر کرتے ہیں لیکن صبح ہوتے ہی مقامی لوگ انہیں وہاں سے ہٹا دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن کے پاس مالی وسائل ہیں وہ کسی نہ کسی طرح مکان خرید یا کرائے پر لے لیتے ہیں، لیکن غریب طبقے کے پاس نہ گھر ہے اور نہ روزگار۔ کئی خاندان فون پر اپنے عزیزوں کو بتا رہے ہیں کہ مقامی افغان ان کی مدد کرنے کے بجائے مزید رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ آخر میں افغان مہاجرین نے عالمی برادری، انسانی حقوق کے اداروں اور فلاحی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ان مجبور اور بے سہارا خاندانوں کی فوری مدد کریں، انہیں افغانستان میں باعزت طور پر ایڈجسٹ کیا جائے اور ان کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جائیں تاکہ وہ اپنے ملک میں سکون سے زندگی گزار سکیں۔ادھر افغان مہاجرین نے بتایا کہ ان کے آبا و اجداد برسوں پہلے ضلع چاغی اور مضافاتی علاقوں میں آ کر آباد ہوئے تھے، جہاں مقامی لوگوں نے انہیں خوش دلی کے ساتھ جگہ دی۔ مقامی آبادی نے نہ صرف رہائش بلکہ روزگار اور کاروبار کے مواقع بھی فراہم کیے۔ مقامی تعاون کی بدولت افغان خاندانوں نے مکانات اور دکانیں بنائیں اور چھوٹے کاروبار قائم کیے۔ گردی جنگل، پوستی اور دیگر بستیوں میں افغانوں کی قائم کردہ دکانیں روزمرہ اشیاء کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ تھیں۔ قریبی قصبوں کے رہائشی خصوصاً دالبندین کے عوام سستی سبزیاں، سلاد اور دیگر کھانے پینے کا سامان انہی بازاروں سے خریدتے تھے۔ حتیٰ کہ تازہ بڑے گوشت کے لیے قصاب بھی گردی جنگل کا رخ کرتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں