سردار اختر مینگل کا نام عارضی قومی شناختی فہرست میں شامل کرنے کو غیر قانونی، غیر آئینی اور قانونی اختیار سے تجاوز قرار

کوئٹہ(این این آئی) عدالتِ عالیہ بلوچستان نے سردار اختر مینگل کا نام عارضی قومی شناختی فہرست (PNIL) میں شامل کرنے کو غیر قانونی، غیر آئینی اور قانونی اختیار سے تجاوز قرار دیتے ہوئے ان کا نام فوری طور پر فہرست سے حذف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست نمبر 1149/2025 پر فیصلہ سنایا۔ یہ درخواست سردار اختر مینگل کی جانب سے وزارتِ داخلہ پاکستان اور دیگر کے خلاف دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کا نام بغیر نوٹس اور قانونی جواز کے PNIL میں شامل کیا گیا، جس کے باعث انہیں طبی معائنے اور علاج کے لیے دبئی روانگی سے کوئٹہ ایئرپورٹ پر روک دیا گیا۔درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ PNIL میں نام شامل کرنا آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10-A، 14، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ نہ کوئی شوکاز نوٹس دیا گیا اور نہ ہی سماعت کا موقع فراہم کیا گیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ PNIL دراصل ایک انتظامی اقدام ہے جس کے پاس کوئی قانونی پشت پناہی نہیں اور اسے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔حکومتی فریق کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ PNIL قومی سلامتی اور انٹیلی جنس بنیادوں پر بنایا گیا ایک ٹول ہے تاکہ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث افراد کو ملک چھوڑنے سے روکا جا سکے۔ تاہم، وہ کوئی قانونی فریم ورک یا تحریری منظوری عدالت کے سامنے پیش نہ کر سکے۔عدالت نے قرار دیا کہ آئین کا آرٹیکل 15 ہر شہری کو آزادانہ نقل و حرکت اور بیرون ملک سفر کا بنیادی حق دیتا ہے، جو صرف ”قانون کے ذریعہ عائد کردہ معقول پابندیوں ” کے تحت محدود کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے میں چونکہ کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی، لہٰذا درخواست گزار کو بنیادی حق سے محروم کرنا غیر آئینی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ”PNIL میں نام شامل کرنا بغیر نوٹس، قانونی جواز یا مناسب عمل کے من مانی اور غیر قانونی اقدام ہے”۔ عدالت نے حکم دیا کہ سردار اختر مینگل کا نام فوری طور پر PNIL یا کسی بھی سفری پابندی کی فہرست سے حذف کیا جائے، جب تک کہ قانون کے مطابق کارروائی نہ کی جائے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق ناقابل تنسیخ ہیں اور انہیں صرف معقول اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہی محدود کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں