کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہا ہے کہ ہمیں زئی اور خیلی سے نکل کر عوام کی بلا رنگ و نسل خدمت کرنا ہوگی،بلوچستان میں دہشت گردی سے اتنا نقصان نہیں ہوا ہے جتنا نقصان قبائلی دشمنیوں کی وجہ سے ہوا ہے ہمیں چاہئے کہ اپنے قبائلی تنازعات کو بلوچ پشتون روایات کے مطابق حل کریں۔یہ بات انہوں نے نورزئی قوم کے سربراہ حاجی امین اللہ خان نورزئی کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہی عشائیے یں حاجی نیاز شمشوزئی، ملک امین اللہ ایڈووکیٹ،ملک اجمل، پیپلزپارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ربانی کاکڑ، خالقداد نورزئی، عمران ملاخیل، حاجی باچامہمند،یاسر خلجی، روزی خان سمیت نورزئی قبیلے کے معتبرین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ بلوچستان ایک قبائلی صوبہ ہے جہاں ہر زبان بولنے والے لوگ آبادہیں اور صوبے کی اپنی قبائلی روایات ہیں۔انہوں نے کہا کہ مفاد پرست عناصر نے اپنے ذاتی مفادات کیلئے ہمیں زئی اور خیلی میں تقسیم کررکھا ہے جو کسی بھی طرح صوبے اور قوموں کے مفاد میں نہیں ہے ہمیں چاہئے کہ زئی اور خیلی سے نکل کر بلا رنگ و نسل عوام کی خدمت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قبائلی دشمنیوں کی وجہ سے صوبے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے اور بلوچستان ترقی کے لحاظ سے دوسرے صوبوں سے بہت پیچھے ہیں ہمیں چاہئے کہ اپنی قبائلی روایات کے مطابق دشمنیوں کا خاتمہ کریں اس سلسلے میں بلوچستان امن جرگہ ہرممکن تعاون کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سیاست اور قبائلیت کو الگ الگ کرنا ہوگاجب تک ہم اسے الگ الگ نہیں کریں گے صوبے کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ نورزئی قوم کے سربراہ حاجی امین اللہ خان نورزئی نے بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں آباد تمام قبائل بھائیوں کی طرح رہ رہے ہیں ہمیں چاہئے کہ آپس میں پائے جانے والے اختلافات اوردشمنیوں کو مل بیٹھ کر حل کریں تاکہ بلوچستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔

