نوابزادہ طلال اکبر بگٹی کی سیاسی زندگی،جدوجہد یادگار خراجِ تحسین کی حق دار ہے،زاہداحمد ناروئی

کوئٹہ(این این آئی) جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد احمد ناروئی نے کہا ہے نوابزادہ طلال اکبر بگٹی کی سیاسی زندگی اور جدوجہد ایک یادگار خراجِ تحسین کی حق دار ہے۔ وہ صرف ایک قبائلی سردار نہیں بلکہ بلوچستان کے مظلوم عوام کی آواز، آمرانہ قوتوں کے سامنے ایک مضبوط دیوار، اور حق و سچ کے علمبردار تھے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد جب بلوچستان صدمے اور غیر یقینی کیفیت میں ڈوبا ہوا تھا، نوابزادہ طلال اکبر بگٹی نے نہ صرف اپنے قبیلے بلکہ پورے خطے کے لوگوں کو سہارا دیا۔ انہوں نے اپنے حوصلے، تدبر اور بے خوفی سے یہ ثابت کیا کہ قیادت کا اصل جوہر قربانی اور عوامی خدمت میں ہے نواب ذادہ طلال اکبر بگٹی نے مشرف جیسے طاقتور آمر کو للکارا اور کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ وہ آمریت کے خلاف ایک ایسی آواز تھے جو کسی دباؤ یا لالچ کے آگے جھکنے والی نہیں تھی۔ آمریت کے سخت مخالف ہونے کے ناطے انہوں نے علماء کرام سے فتوے حاصل کیے جن میں پرویز مشرف کو بلوچ قوم کا قاتل قرار دیا گیا اور واجب القتل سمجھا گیا۔ یہ ان کی جرات اور بے خوفی کا عملی مظہر تھا کہ وہ آمر کے خلاف کسی بھی حد تک جانے سے گریزاں نہ تھے۔انہوں نے کہا کہ نواب ذادہ طلال بگٹی نے لاپتہ افراد کے مسئلے کو سب سے پہلے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا۔ وہ ان مظلوم خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوئے جن کے پیارے غائب تھے، اور ان کا درد اپنا درد سمجھ کر ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کی نواب ذادہ طلال بگٹی کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصولی سیاست وہی ہے جو عوام کے دکھ درد کو سمجھ کر کی جائے۔ وہ ہر اس قوت کے مخالف تھے جو بلوچستان کے عوام کو ان کے وسائل اور حقوق سے محروم رکھنا چاہتی تھی۔ ان کی جرات مندانہ سیاست نے بلوچ نوجوانوں کو یہ حوصلہ دیا کہ ظلم کے خلاف ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔انہوں نے کہاکہ آج بھی نوابزادہ طلال اکبر بگٹی کی یاد بلوچستان کے دلوں میں زندہ ہے۔ ان کا کردار ہمیشہ آمریت مخالف جدوجہد اور عوامی حقوق کی پاسداری کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ وہ ایک دلیر، عوام دوست اور باوقار رہنما تھے جن کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں