نیشنل پارٹی کا زبیر بلوچ کی شہادت پر اظہارِ افسوس، غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ

کوئٹہ(این این آئی) نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری سوشل میڈیا سعد دہوار نے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار ) کے سابق مرکزی چیرمین ملک زبیر بلوچ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار اور مزمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان گزشتہ دو دہائیوں سے آگ کی لپیٹ میں ہے جہاں آج کوئی بھی محفوظ نہیں ہے بدقسمتی سے اسی آگ کے تسلسل نے ہم سے ایک ایسا نظریاتی با اصول و با کردار سیاسی رہنماء چھینا جنہوں نے ہمیشہ سے بلوچستان میں ہونے والی ناانصافیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کی چئیرمین ملک زبیر بلوچ کا تعلق ایک پرامن سیاسی طلباء تنظیم بی ایس او پجار سے تھا جس کی نظریاتی وابستگی نیشنل پارٹی سے ہے جو اس ملک میں بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کے بطور پیروکار پرامن سیاسی جدوجہد کے داعی ہے۔
ان کی شہادت بہت سارے سوالات کو جنم دینے کے ساتھ ساتھ آئے روز بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری طور پر لوگوں کی گمشدگیاں اور لاشوں کا ملنے کا نا رکنے والا سلسلہ وفاق اور صوبے کے درمیان نا صرف مزید دوریاں پیدا کررہی ہے بلکہ خطرناک حد تک موجودہ فارم 47 کے جنگی منافع خور حکمرانوں کی جارحانہ ناکام پالیسیوں کی بدولت بلوچستان کے عوام احساس بیگانگی، احساس محرومی اور نفرت کی نہ بجھنے والی آگ کی کیفیت کے لپیٹ میں ہے جس کا اسلام آباد کو احساس نہیں ہورہا۔ چئیرمین ملک زبیر جیسے پرامن آوازوں کو دبانے سے بلوچستان کا مسئلہ ہرگز حل نہیں ہوگا نیشنل پارٹی کا روز اول سے موقف اور پروگرام واضح رہا ہے کہ بلوچستان کو صرف سیکورٹی کی نظر سے نا دیکھا جائے بلوچستان کا مسئلہ شروع دن سے سیاسی رہا ہے جس کا واحد حل بھی سیاسی طور پر انگیجمنٹس اعتماد سازی اور بامعنی مذاکرات ہے طاقت کے استعمال سے یہ مسئلہ مزید پیچیدہ اور بگڑتی جارہی ہے جس کا خمیازہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ہر مکتبہ فکر سے عام عوام بلخصوص سیاسی کارکنان بگھت رہے ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ انصاف کے قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دالبندین واقع میں چئیرمین ملک زبیر بلوچ کی شہادت کا غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں