چہرمین اسلم بلوچ کا بیان: زبیر بلوچ طلبہ حقوق کے علمبردار تھے

کوئٹہ( این این آئی) نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اسلم بلوچ نے بی ایس او پجار کے سابق مرکزی چہرمین زبیر بلوچ کے قتل کے واقعہ سیاسی کارکنوں کے لیئے المیہ ہے زبیر بلوچ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تھا انہوں نے طالبعلموں کے حقوق کے لیئے منظم جدوجہد کی اور کئی بار جیل بھی گئے وہ ایک بہترین وکیل تھے ان کا ہمیشہ سے یہ مطالبہ تھا کہ لوگوں کو ماورائے آہین لاپتہ یا قتل نہیں کیا جائے اور بدقسمتی سے خود ماورائے آہین قتل ہوئے جس کی تحقیقات بلوچستان ہائی کورٹ کی ججز پر مشتمل کمیٹی سے کرواکر اصل حقائق عوام کے سامنے لایا جائے۔اسلم بلوچ نے واضع کیا کہ بلوچستان کو جس انداز سے چلایا جارہا ہے وہ انداز ہی بلوچستان میں بھیانک صورتحال پیدا کررہی ہے۔غیرجمہوری قوتوں نے غیرحقیقی و غیر مقبول لوکوں کا ٹولہ بلوچستان پر مسلط کرکے اپنے ذاتی مفادات کے تکمیل کے لیئے بلوچستان میں قتل و غارت کی صورتحال پیدا کررکھی ہیں جو نہ بلوچستان کے مفاد میں ہے نہ ہی فیڈریشن کے مفاد میں ہے جب تک حقیقی سیاسی قوتوں کی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا بلوچستان میں بداعتمادی اور خلفشار میں مزید اضافہ ہوگا اس خلفشار کو جھوٹے بیانیہ کے ذریعے روکا نہیں جاسکتا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں