بلوچستان ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ، گوادر سیلاب متاثرین کو منصفانہ معاوضہ دینے کا حکم

گوادر ( این این آئی) گوادر سول سوسائٹی کے چیئرمین،چیئرمین محمد جان، اعجاز دشتی اور محمد حنیف نے گوادر میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی امداد میں بے ضابطگیوں اور امتیازی سلوک کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ کے تربت بنچ میں آئینی درخواست دائر کی۔ اس اہم مقدمے کی پیروی کیچ کے ممتاز قانون دان شکیل احمد زعمرانی نے کی، جنہوں نے متاثرین کے آئینی و انسانی حقوق کی بھرپور وکالت کی۔

شکیل احمد زامرانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا گوادر میں آنے والے شدید سیلاب کے نتیجے میں تقریباً 11,000 خاندان متاثر ہوئے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے گوادر کو آفت زدہ علاقہ قرار دیتے ہوئے متاثرین کے لیے مالی امداد اور بحالی کے وعدے کیے۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس نکلے—امدادی رقوم اور سامان صرف چند منتخب خاندانوں تک محدود رہے، جنہیں مبینہ طور پر پسند کی بنیاد پر چُنا گیا۔ باقی ہزاروں متاثرین تاحال امداد سے محروم ہیں، جس سے نہ صرف ان کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے بلکہ ان کے بنیادی حقوق بھی پامال ہوئے۔

چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے آئینی درخواست نمبر (T) 23/2024 کو منظور کرتے ہوئے ایک جامع اور تاریخی فیصلہ سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ- گوادر کے عوام کا بنیادی ذریعہ معاش ماہی گیری اور مویشی پالنا ہے، اور ان ذرائع کو پہنچنے والے نقصان پر معاوضہ نہ دینا آئینی و معاشی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے- درخواست گزاروں نے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کی، جس پر عدالت نے فوری اقدامات کے احکامات جاری کیے۔

عدالت نے فریقین کو درج ذیل اقدامات کی ہدایت کی:- سیلاب متاثرین کی مکمل فہرست بمعہ معاوضے کی حیثیت عوامی سطح پر شائع کی جائے، جسے سرکاری ویب سائٹ اور مقامی نوٹس بورڈز پر نمایاں طور پر آویزاں کیا جائے۔- NDMA کی ہدایات کے مطابق نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے مقررہ مدت میں مکمل کر کے دوبارہ عدالت میں جمع کروایا جائے تاکہ تمام متاثرین کو منصفانہ معاوضہ فراہم کیا جا سکے۔- ماہی گیری کی کشتیوں، مویشیوں اور دیگر معاشی ذرائع کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لے کر متاثرہ افراد کو معاوضہ دیا جائے۔- فریق نمبر 2 اور 3 کو فوری طور پر سنٹے سر (Sut-e-Sar) اور دیگر حساس علاقوں میں حفاظتی دیواروں (بندات) کی تعمیر شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔
عدالت میں حکومت کی نمائندگی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان، ظہور احمد نے کی۔
یہ فیصلہ نہ صرف متاثرین کے لیے امید کی کرن ہے بلکہ بلوچستان میں آئینی حقوق کے تحفظ کی ایک روشن مثال بھی ہے۔ یہ اقدام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر قانونی راستہ اختیار کرتے ہیں، تو انصاف کی راہیں کھلتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں