کوئٹہ(این این آئی)جی ہاں میں اکیلا ہی نہیں ہزاروں لاکھوں لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن(بی ایس او) پجارکاسابق چیئرمین اور نیشنل پارٹی کا مرکزی رہنما ایڈووکیٹ زبیر بلوچ بہت بڑا دہشت گرد تھا، اس لیے کہ وہ دورجدید کی جمہوریت نما آمریت کے خلاف بولتا تھا اس دہشت گرد میں ایک یہ بھی بڑی خامی تھی کہ اس کی آواز بہت گونجداراورلہجہ کاٹ دارتھاجودورجدیدکی غلام داری کے اس سماج میں آقاؤں اور غلاموں کی نیندیں حرام کرنے کا سبب بنتا تھا،
وہ لاپتہ افراد کی گمشدگی کو سرکارکے کھاتے میں لکھتااوربولتاتھا، حالانکہ وہ خود ہی کہیں گم ہو گئے ہیں اور ایک دوسرے پر تشدد کرکے اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینک دیتے ہیں،
جی ہاں اچھا ہی ہواکہ زبیر بلوچ کو ہمارے بہادر جوانوں نے مار ڈالا ورنہ یہ شخص کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتا تھا یہ خطرناک آدمی ہروقت بلوچستان کے ساحل اور وسائل
کی رٹ لگائے رکھتاتھا یہ سیندک ریکوڈیک اور بلوچستان کے جملہ معدنی وسائل کو بلوچستان کے عوام کی ملکیت قرار دینے کی بات کرتا تھا، ارے اس دیوانے کو کسی نے یہ بھی نہ سمجھایا کہ ملکیت تو آذاد لوگوں کی ہوتی ہے غلاموں کی تو کوئی ملکیت نہیں ہوتی، یہ بار بار آقاؤں سے 18ویں آئینی ترمیم پر عمل کرنے کے مطالبات بھی کرتا تھا جی جناب یہ تو ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کی بھی باتیں کرتا تھا یعنی یہ چاہتا تھا کہ انتخابات صاف اور شفاف ہوں جن کے نتیجے میں عوام کے حقیقی نمائندے منتخب ہوکر اسمبلیوں میں جائیں تاکہ عوام کا حق حکمرانی بحال ہوسکے، بھائی اس طرح کے انتخابات کے نتیجے میں تو اسمبلییاں زبیر بلوچ جیسے دہشت گردوں سے بھر جائیں گی، اس طرح تو پھر سارے محب وطن سیاست دان بے روزگار ہوجائیں گے جو اسمبلیوں میں صرف اپنی تنخواہیں اور دیگر مراعات بڑھانے کے لیے جاتے ہیں،
لیکن ٹھہریے جناب ٹھنڈے دل سے غور کیجئے اور سوچنے،
تھوڑا ساان کوبھی سوچنے کا موقع دیجئے جن کی کوٹ پتلونوں کی جیبوں میں غداری، بغاوت اور دہشت گردی جیسے الزامات کے فتوے بھرے پڑے ہیں یہ فتوے ملک کے ہر اس شخص کے خلاف استعمال ہوئے ہیں جس نے ملک میں آئیں و قانون کی بات کی ہو، عوام کے حق حکمرانی کی بات کی ہو،
زبیر بلوچ بھی انہی کی طرح کا دہشت گردتھا،
لیکن جناب یہ زبیر بلوچ تو کسی کالعدم یا دہشت گرد تنظیم کا رکن تو نہیں تھا اور نہ ہی یہ انڈرگراؤنڈ سیاست کرتا تھا یہ تو زمانہ طالب علمی سے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے پلیٹ فارم سے سیاست کرتا چلا آرہا تھا اور بی ایس او کاتعلق تو نیشنل پارٹی سے ہے زبیر بی ایس او کا منتخب چیئرمین رہاہے اس باکمال نوجوان نے اپنی چیئرمین شپ کے دوران طلباء مسائل کے حل اور تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرانے کے لیے بے پناہ جدوجہد کی ہے اس نے اپنے اصولوں کی خاطر قید وبند کی صحوبتیں برداشت کی ہیں، جناب بی ایس او اور نیشنل پارٹی ملکی آئین کے فریم ورک میں کام کرتی ہیں نیشنل پارٹی بلوچستان اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ آف پاکستان میں اپنی نمائندگی رکھتی ہے یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے تو پھر اس جماعت کا مرکزی عہدے دار دہشت گرد کیسے ہو سکتا ہے، جناب پاکستان ایک کثیر القومی مملکت ہے، کیا قومی وحدتوں کے وسائل پر قوموں کے حق کی بات کرنا دہشت گردی ہے، لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اور حکمرانوں کی طرف سے مملکت کے آئین کی پامالی پر احتجاج کرنا جرم ہے، کیا صاف اور شفاف انتخابات کا مطالبہ دہشت گردی ہے، یہ چند سوالات ہیں جن کا جواب حکمرانوں دینا چاہیے اور ملک کے ہر باشعور انسان کا فرض ہے کہ وہ حکمرانوں کی لاقانونیت اور جرائم کے خلاف صدائے احتجاج بلندکریں۔ ۔۔۔

