ڈیرہ مراد جمالی(این این آئی)برائٹ اسٹار ڈیولپمنٹ سوسائٹی بلوچستان (BSDSB) نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) اور نیکٹا کے تعاون سے نصیرآباد ڈویژن کے صدر مقام ڈیرہ مراد جمالی میں ایک روزہ آگاہی و ثقافتی سیمینار کا انعقاد کیا گیا *سمینارکا مقصد بلوچستان بالخصوص نصیرآباد ڈویژن میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے تدارک اور نوجوانوں میں امن، برداشت، اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینے پر آگاہی فراہم کی گئی تقریب میں نصیرآبادڈویژن سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی رہنما، سول سوسائٹی نمائندگان، تعلیمی اداروں کے اساتذہ، طلبہ و طالبات، اور مختلف قومی و بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی سیمینار میں مختلف اسکولز و کالجز کے طلبہ و طالبات کے مابین تقریری مقابلہ، تھیٹر پرفارمنس (ٹیبلو)، اور امن و رواداری کے موضوع پر پینل ڈسکشن کا انعقاد کیاگیاتقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر محمد ابراہیم ابڑو ڈونراسد ڈی ڈی او نسواں خانزادی بلوچ پراجیکٹ منیجر محمد اختر، یونیورسٹی کالج ڈیرہ مراد جمالی کے ڈپٹی ڈائریکٹر سلیم احمد رند برائٹ اسٹاربڈیولیمنٹ دوسائٹی بلوچستان کے۔منیجرسید اقبال شاہ صدام حسین ابڑو فیلڈ آفیسر لمحمد ایوب بلیدی اور دیگر مقررین نے کہا کہ انتہا پسندی کا مستقل حل صرف طاقت یا جنگ نہیں ہے، بلکہ اصل علاج تعلیم اور شعور ہے اور مستقبل جے معماروں کو اچھی اور غیر متعصبانہ تعلیم دی جائے تاکہ وہ صحیح اور غلط میں فرق سمجھ سکیں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع انصاف، اور اپنی آواز اٹھانے کا حق ملنا چاہیے تاکہ وہ مایوسی کے ساتھ ساتھ انتہائی پسندی کی طرف راغب نہ ہوسکیں اوراس کے ساتھ، معاشرے میں برداشت، پیار، اور امن کی سوچ کو مضبوط کیا جائے۔ مساجد، مدرسوں، میڈیا، اور گھروں میں بھی یہی تربیت دی جائے کہ اختلاف کو برداشت کرنے صلاحیت پیداکرے اور دوسروں کی رائے سنیں، اور غصے یا تشدد کا راستہ نہ اپنائیں انہوں نے کہاکہ اگر یہ سب مستقل اور خلوصِ نیت سے کیا جائے، تو آہستہ آہستہ انتہا پسندی کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہیانہوں نے کہاکہ انتہا پسندی کا مقابلہ صرف سیکورٹی سے نہیں بلکہ تعلیم، ثقافت، انصاف، اورروزگار کے مواقع سے کیا جا سکتا ہینوجوانوں کو آگے لا کر ان کی توانائی کو تعمیری راستے پر ڈالنا ہی اصل کامیابی ہیمقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ثقافتی تقریبات نوجوانوں کو پرامن پیغام پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ معاشرتی ہم آہنگی، بین المذاہب احترام، اور اظہارِ رائے کی آزادی کوفروغ دے کر ہی ایک معتدل اور پرامن معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہیپروگرام کے آخر میں نمایاں کارکردگی دکھانیوالیطلبہ و طالبات کو کیش انعامات، شیلڈز اورتعریفی اسناد سے نوازا گیا، جبکہ تمام مہمانوں کے عزاز میں پرتکلف ظہرانہ بھی دیا گیا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی، حکومت اقدامات میں ناکام
- وزیراعلیٰ پنجاب کا مستحق افراد کے لیے فلاحی پروگرام ”مریم کو بتائیں“ کا آغاز
- احسن اقبال بنگلہ دیشی وزیراعظم کی حلف برداری میں شرکت کیلئے بنگلہ دیش چلے گئے،تقریب(آج)ہوگی
- پاکستان کی اسرائیل کی مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع کی شدید مذمت
- فیلڈمارشل سیدعاصم منیراورقومی سلامتی کے مشیرشیخ طحنون بن زایدالنہیان کی ملاقات
- وزیر اعظم شہباز شریف کاچین کے نئے سال پر صدر شی جن پنگ و چینی عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار
- سادات قومی اتحاد پاکستان غیر سیاسی پلیٹ فارم،مقصد صرف سادات برادری کے جائز،آئینی حقوق کا حصول ہے،سید ذوالفقار علی شاہ
- بلاول بھٹو ملک کی نوجوان قیادت کی علامت ہیں،سردارسربلند جوگیزئی
- وزیراعظم کا غریب خاندانوں کیلئے 38ارب روپے کا رمضان پیکیج خوش آئند ہے،چوہدری نعیم کریم
- وفاقی محتسب کے حکم پر درخواست گزار فوزیہ کو بینوولنٹ فنڈ کی مد میں 242400 روپے دلوا دیئے گئے

