کوئٹہ+اسلام آباد(این این آئی) چیئرپرسن سینٹ فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ماڈل ٹاؤن کوئٹہ میں دہشت گرد انہ خود کش حملے کے دلخراش واقعے پر گہرے افسوس اور سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مذمتی بیان میں شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ دھماکہ انتہائی انسانیت سوز اور اور مکروہ کارروائی ہے۔ اس بزدلانہ حملے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور زخمی ہونے والے بھائیوں بہنوں کی خبر نے پورے صوبے اور قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔ ہم ان شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور زخمیوں کے جلد صحتیاب ہونے کے لیے دعاگو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، چاہے جس بھی نام یا سرپرستی میں ہو، انسانی جانوں اور امن کے خلاف مرتکب وہ سنگین جرم ہے جسے ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ ہماری قوم کا حوصلہ شکستہ کرنے اور معاشرتی ہم آہنگی برباد کرنے کی کوششوں کو ہم ہر حال میں ناکام بنائیں گے اور پوری قوم اس دہشت گردی کی عفریت سے نمٹنے کے لئے یکجا ہے اور کسی صورت دہشت گردی کے اس ناسور کو پنپنے نہیں دیا جائے گا اور جلد ان تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کر کے وطن کو پاک کر دیا جائے گا۔ سینیٹرثمینہ ممتاز زہری نے مزید کہا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ یہ حملہ صرف ایک مقامی واقعہ نہیں؛ یہ ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے جس کے پیچھے ہمارے ازلی دشمن بھارت کے پالتو خارجی عناصر اور ان کے ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے حمایتی عناصر اور اْن کے پالتو پروکسیز فتنہ الہندوستان جو یہاں نفرت، انتشار اور تباہی پھیلا رہے ہیں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ یہ دہشت گرد اب چھپ نہیں سکتے انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جلد جائے گا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سیکیورٹی فورسزکیجوانوں کو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بہادر سیکیورٹی فورسز نے جس طرح دہشت گردوں کا دلیرانہ مقابلہ کیا اور دہشت گردوں کو ان کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا وہ قابل تعریف اور لائق تحسین ہے سیکیورٹی الکاروں نے بہادری اور پیشہ ورانہ انداز میں فوری کارروائی کر کے مزید بڑے نقصان کو ٹال دیااور تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ ان کی خدمات اور جراتِ کو قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کہ اس کٹھن وقت میں افواہوں اور بے بنیاد اطلاعات پر کان نہ دھریں اور سرکاری اطلاعات اور سیکیورٹی ذرائع کا انتظار کریں۔ ہمیں عزم، تحمل اور ایک مضبوط قوم کا ثبوت دیتے ہوئے ایک ساتھ کھڑے رہنا ہوگا تاکہ دہشت گردوں کے مذموم مقاصد شکوک و شبہات اور انتشار کے ذریعہ حاصل نہ ہوں۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ انصاف کا تقاضا پورا کیا جائے گا اور ان عناصر کو جتنی جلد ممکن ہو اندرونِ قانون جوابدہ بنایا جائے گا۔آخر میں انہوں نے ایک بار پھر شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی فوری صحتیابی کے لیے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام اور زخمیوں کو جلد صحتیابی عطا فرمائے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- ٹی 20 ورلڈ کپ: سپنرز کی شاندار بولنگ، پاکستان نے امریکہ کو ہرا دیا
- ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان کی انڈیا کے ساتھ میچ کھیلنے پر کب کیا ہوا؟
- تھائی لینڈ میں اتوار کو عام انتخابات، کیا ہونے جا رہا ہے؟
- نیپاہ وائرس: وہ خاموش قاتل جس کی کوئی دوا نہیں
- ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: انڈین بلے باز ابھیشیک کو پیٹ میں تکلیف، ہسپتال میں داخل
- نیپاہ وائرس کے انڈیا سے باہر پھیلنے کا خطرہ کم ہے: ڈبلیو ایچ او
- ڈنر میں کیا کھائیں، اب اے آئی آپ کو بتائے گی
- خلا میں اے آئی: سپیس ایکس اور ایکس اے آئی کا ممکنہ انضمام
- تین سال میں 50 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی، ملک کو پانی کا شدید بحران
- سرسبز اوتھل کے سائے میں پیاسا کیواری، بلوچستان کے آبی بحران کی کہانی

