کوئٹہ(این این آئی) پلاسٹک بیگزکا مسلسل استعمال ماحول کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جس کی بروقت تدارک ناگزیر ہے، پلاسٹک کا استعمال مسلسل ماحول کے بگاڈ کا سبب بن رہا ہے، اگر بروقت اقدامات نہیں کیے گئے تو ہمارے آنے والے نسلوں کو اس کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا،پلاسٹک کے استعمال کی روک تھام لیے ضروری ہے کہ قومی سطح پر اس حوالے سے ٹھوس پالیسی مرتب کیا جائے تاکہ ماحول کو کسی بھی ممکنہ تباہی سے بچایا جاسکے، ان خیالات کا اظہارمقررین نے ایجوکیشن اینڈ یوتھ ایمپاورمنٹ سوسائٹی کی زیر اہتمام پلاسٹک بیگز کے ماحول پر اثرات اور کلائمنٹ چینج ایکشن کے عنوان سے انوائرمنٹ پروٹکشن ایجنسی کوئٹہ کے دفتر میں منعقدہ ورکشاپ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا، جس میں این ایچ سی آر بلوچستان کے پروفیسرفرخندہ اورنگزیب، ای پی آئی کے والی خلجی،سمیع شارک، سینئر صحافی بہرام بلوچ،میر بہرام لہڑی، ایف اے او، مسلم اینڈ، ایس پی او، ڈبلیو ای ایس ایس، بی ایس ڈی ایس بی، سالار فونڈیشن کے علاوہ وکلاء اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ورکشاپ کے شرکاء نے کہا کہ پلاسٹک کسی بھی شکل میں ہو ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہے جس کی تدارک کے لیے نہ صرف صوبائی سطح بلکہ قومی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہیں، بلوچستان میں پلاسٹک کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے، اس سلسلے میں صوبائی اسمبلی سے ایکٹ بھی پاس کیاگیا اور متعلقہ ادارے اس کے خلاف بھرپور ایکشن بھی اٹھارہے ہیں، لیکن اس کے باوجود کاروباری حضرات اس کا استعمال کر رہے ہیں جو باعث تشویش ہے، مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرے کے تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو پلاسٹک کے استعمال کے تدارک کے لیے عملی اقدامات اٹھانے ہونگے اور لوگوں میں اس سلسلے میں مزید شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہیں۔ شرکاء نے کہا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے عمل درآمد اور تعلیم دونوں پر توجہ مرکوز کرنے والی دو جہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، تمام تجارتی شعبوں میں پلاسٹک بیگ پر پابندی کے سخت، غیر امتیازی عمل درآمد کی فوری ضرورت ہے۔ دوم، شہریوں کو پلاسٹک بیگ کے استعمال اور ان کے فوری ماحول کی تباہی کے درمیان براہ راست تعلق کے بارے میں آگاہی دینے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر عوامی آگاہی مہم شروع کی جانی چاہیے۔ اس طرز عمل میں تبدیلی کو آسان بنانے کے لیے آسانی سے دستیاب، ماحول دوست متبادل جیسے کپڑے، جوٹ، یا کاغذ کے تھیلے کو فروغ دینا ضروری ہے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کوئٹہ کی مقامی کوششوں کو ایک فیصلہ کن قومی پالیسی کے ذریعے سپورٹ کیا جانا چاہیے۔ ایک متحد، ملک گیر فریم ورک کی ضرورت ہے تاکہ واحد استعمال پلاسٹک کی تیاری اور سپلائی کی حوصلہ شکنی کی جا سکے، مستقل نفاذ، معیاری جرمانے اور پائیدار متبادل پیدا کرنے والی صنعتوں کے لیے مالی مراعات کو یقینی بنایا جائے۔ جب تک کہ عوامی تعاون اور پالیسی کے نفاذ میں تسلسل نہ ہو، پابندی کا خطرہ محض ایک علامتی اشارہ ہی رہ جائے گا، جس سے کوئٹہ کو لفظی طور پر اپنے ہی پلاسٹک کے کچرے پر گھٹن کا سامنا کرنا پڑے گا۔مقررین نے کہا کہ ماحول کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور موثر قدامات اٹھانے چاہیے کیونکہ اس وقت ہمارے ملک کو ماحولیاتی تبدیلی سے سخت خطرہ لائق جس کے اثرات پنجاب اور ملک کے دیگر صوبوں میں آنے والے سیلابوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔تقریب کے آخر میں بلوچستان حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کامشترکہ فورم بنانے کا اعلان بھی کیا گیا جس کا نام کلائمٹ الیکشن فورم ہوگا۔

