مسلم ممالک عجلت میں امریکہ کے سامنے لیٹنے کی بجائے اسلامی سربراہ کانفرنس کا اجلاس فوری طلب کریں،امان اللہ کنرانی

کوئٹہ(این این آئی)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے اپنے ایک بیان میں امریکی صدر کی ذاتی خواہش پر امریکہ کے کسی قانون و پالیسی ساز قومی اداروں کی منظوری کے بغیر انفرادی،سطحی،نمائشی طور پر دنیا بھر میں سے 4 درجن سے زائد مسلم ممالک کو نظر انداز کرکے صرف 7 یعنی تقریباً”نصف درجن مسلم ممالک کو اپنی گود میں بٹھانا ان کے منہ میں چوسنی دینے کے مترادف ہے ھمارا ماننا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا سطحی و نمائشی امن معاہدہ مسلم امت سمیت فلسطین و غزہ کی دائمی طوق غلامی کے معاہدے کے مترادف ہے گن پوائنٹ پر مسلط کردہ معاہدے کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتے ہیں نہ متاثرہ فریق کو شریک کئے بغیر کوئی معاہدہ پائیدار امن کی ضمانت دے سکتا ہے افسوس کی بات ہے غزہ کے عوام ہزاروں کی تعداد میں شہادتیں،جان و مال و املاک و عزت و آبرو کی قربانی دے کر اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں کسی امریکہ یا روس سے فریاد نہیں کررہے ہیں اسلامی بندھن میں قران کی رو سے مسلم اْمہ سے خیر کی توقع ضرور رکھتے ہیں مگر دیگر اسلامی ممالک اپنی حکومتوں کی بقاء و تحفظ کیلئے امریکہ سے جان بخشی مانگ کر غزہ و فلسطینی عوام و سرزمین کا سودا کررہے ہیں مسلم ممالک کو عْجلت میں امریکہ کے سامنے لیٹنے کی بجائے اسلامی سربراہ کانفرنس کا اجلاس فوری طلب کرنے کا اقدام کیا جائے پاکستان اس نوعیت کے اہم پالیسی پر سرکاری کی بجائے قومی پالیسی کے تحت اداراجاتی یعنی پارلیمنٹ و قومی سلامتی کے ادارے کو اعتماد میں لیا جائے دوسرے مرحلے میں تمام 50 کے قریب مسلم ممالک کے سربراہان کو بلاکر فلسطین و غزہ کی بقاء و تحفظ کیلئے اجتماعی دانش کا منصوبہ تیار کیا جائے نہ کہ ایک فرد واحد کی خواہش،انگلی کے اشارے پر ڈھیر ہوا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں