بلوچستان ہائیکورٹ کا صوبے میں گیس کی فراہمی میں امتیازی رویئے پر برہمی کااظہار

کوئٹہ(این این آئی)عدالتِ عالیہ بلوچستان نے صوبے کو گیس کی فراہمی میں امتیازی رویے پر سخت برہمی کا اظہارِ کرتے ہوئے سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی ایل) اور حکومتِ بلوچستان کو آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس عدالتِ عالیہ بلوچستان جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایڈوکیٹ سید نذیر احمد اغا کا دائر ائینی درخواست بنام وزارت پیٹرولیم حکومت پاکستان کیس کی سماعت کے دوران ایس ایس جی سی ایل کے جنرل منیجر محمد راحیل ملک کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے گھریلو صارفین کو صرف 60 ملین کیوبک فٹ یومیہ (MMCFD) گیس فراہم کی جا رہی ہے، جب کہ پنجاب اور سندھ کو بالترتیب 407 اور 198 MMCFD فراہم کی جا رہی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ صورتحال 1973 کے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 اور اس میں درج مساوی سلوک کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی اور صوبہ بلوچستان کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔ بینچ نے ایس ایس جی سی ایل کی رپورٹ کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے مزید ہدایت دی کہ اگلی سماعت پر ایک جامع رپورٹ پیش کی جائے جس میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے تمام اضلاع و تحصیلوں کو فراہم کی جانے والی گیس کی تفصیل شامل ہو۔ عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ بلوچستان کے ہر گاؤں اور تحصیل تک گیس کی فراہمی کے لیے ایس ایس جی سی ایل نے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے چیف سیکرٹری بلوچستان کی ایپکس کمیٹی اجلاس میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان، جو ایس ایس جی سی ایل بورڈ آف ڈائریکٹرز کے نامزد رکن بھی ہیں، آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کریں کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت بلوچستان کو پہلی ترجیح دینے کے معاملے پر وفاقی حکومت کے ساتھ کیا پیش رفت کی گئی ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جی ایم ایس ایس جی سی ایل کی پیش کردہ رپورٹ سے یہ بات واضح ہے کہ وفاقی حکومت اور ایس ایس جی سی ایل نے آئین کے آرٹیکل 158 کی خلاف ورزی کی ہے، جو صوبے کے عوام کے بنیادی حقوق متاثر کرنے کے مترادف ہے۔عدالت نے موسمِ سرما کی شدت کے پیشِ نظر جی ایم ایس ایس جی سی ایل کوئٹہ کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے ہیڈ آفس کراچی سے فوری رابطہ کر کے کوئٹہ شہر میں گیس پریشر بڑھانے کے اقدامات کریں تاکہ شہریوں کو مشکلات سے بچایا جا سکے۔ عدالت نے حکم نامے کی کاپی ایڈووکیٹ جنرل، ڈپٹی اٹارنی جنرل، چیف سیکرٹری بلوچستان، پی ایس چیف سیکرٹری اور سینئر منیجر ایس ایس جی سی ایل کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت دی۔کیس کی مزید سماعت 4 نومبر 2025 کو ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں