کوئٹہ(این این آئی)اسپیکربلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی نے کہاہے کہ پٹ فیڈر کینال کی بحالی منصوبے کے ٹھیکیداروں کو دی گئی موبلائزیشن ایڈوانس کا پچاس فیصد واپس لیا جائے اور ٹھیکیداروں کو کسی بھی وقت اسمبلی میں طلب کیا جا سکتا۔یہ بات انہوں نے بدھ کو پٹ فیڈر کینال کی بحالی منصوبے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی طارق خان مگسی، پارلیمانی سیکرٹری عبدالمجید بادینی، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ،سیکریٹری آبپاشی، پروجیکٹ ڈائریکٹر، سیکرٹری ٹو اسپیکر حیات بزنجو سمیت متعلقہ افسران شریک ہوئے۔پارلیمانی سیکرٹری عبدالمجید بادینی نے اجلاس کو بتایا کہ پٹ فیڈر کینال علاقے کے عوام کے لیے ریڈ لائن ہے کیونکہ اسی پر وہاں کے کسانوں اور عوام کی زندگی کا انحصار ہے۔ 65 ارب روپے کی خطیر رقم مختص اور 11 ارب روپے بطور موبلائزیشن جاری ہونے کے باوجود عملی کام کا آغاز نہ ہونا عوام میں شدید تشویش پیدا کر رہا ہے۔طارق خان مگسی نے کہا کہ منصوبے کا ٹینڈر ہو چکا ہے اور رقم بھی جاری ہوچکی ہے لیکن ٹھیکیداروں نے منصوبہ شروع نہیں کیا، ایسے ٹھیکیداروں کو جواب دہ بنایا جانا ضروری ہے۔سیکریٹری آبپاشی نے بتایا کہ تمام غیر قانونی کنکشن ختم کیے جائیں گے اور منصوبے پر عملدرآمد کے لیے کمیٹی بنائی جا سکتی ہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے منصوبے کی تفصیلات پیش کیں اور بتایا کہ منظوری اور ٹینڈرنگ کے مراحل مکمل کیے جاچکے ہیں، تاہم سندھ حصے میں قبضہ جات، سکیورٹی مسائل اور یوٹیلیٹی تنصیبات کی منتقلی جیسے مسائل رکاوٹ ہیں۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے واضح کیا کہ یہ عوام کا پیسہ ہے اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے حکم دیا کہ ٹھیکیداروں کو دی گئی موبلائزیشن ایڈوانس کا پچاس فیصد واپس لیا جائے اور ٹھیکیداروں کو کسی بھی وقت اسمبلی میں طلب کیا جا سکتا ہے۔ اسپیکر نے مزید ہدایت کی کہ 20 اکتوبر 2025 تک منصوبے کی مکمل مالی اور عملی تفصیلات بشمول موبلائزیشن رقوم کے استعمال کی وضاحت پیش کی جائے۔اجلاس میں اراکین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مفاد کے اس اہم منصوبے پر کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور کسانوں کے حقوق ہر صورت میں محفوظ بنائے جائیں گے۔

