کوئٹہ(این این آئی) گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان واٹر اینڈ سینیٹیشن پلان 35-2025 دراصل ہمیں پورے صوبے میں پانی اور صفائی کے مستقبل کیلئے اگلے 10 سالوں کیلئے ایک واضح سمت فراہم کرتا ہے۔پانی اور صفائی زندگی کی بنیادی ضروریات ہیں جن کے بغیر کسی ملک یا قوم کی بقا، وقار اور ترقی ممکن نہیں۔ کوئٹہ میں بھی زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح گمبھیر صورتحال اختیار کر چکی ہے. یہ منصوبہ محض دستاویزات نہیں بلکہ یہ بلوچستان کے لوگوں سے ایک وعدہ ہے کہ آپ کی حکومت آپ کے مستقبل میں سرمایہ کاری کریگی اور آپ کو موسمیاتی خطرات سے بچائے گی۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اپنا بھرپور تعاون کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ایک مقامی ہوٹل میں ” بلوچستان کا واٹر اینڈ سینیٹیشن پلان 35-2025 کا آغاز کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمٰن کھتران، چیف فیلڈ آفیسر یونیسیف ڈاکٹر مریم درویش سید، صوبائی سیکرٹریز ہاشم خان غلزئی، عبدالروف بلوچ اور اکبر علی بلوچ سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے. اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ دس سالہ واٹر اینڈ سینیٹیشن منصوبہ ہمیں مضبوط انفراسٹرکچر کی تعمیر، اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے، کمیونٹیز کو شامل کرنے اور نئی شراکتیں لانے کا منصوبہ مرتب کرتا ہے۔ آج سے شروع کیے گئے معاون فریم ورک ہمیں موسمیاتی خطرات کو سمجھنے، اچھے طریقوں کو فروغ دینے اور سروس فراہم کرنے والے بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ یہ بلوچستان میں صاف پانی اور محفوظ صفائی ستھرائی تک رسائی ہمیشہ مشکل رہی ہے۔ ہمارے بڑے فاصلے، بکھری ہوئی آبادی اور کمزور انفراسٹرکچر ہر خاندان کو یہ خدمات فراہم کرنا مشکل بنا دیتا ہے۔ یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ اس عظیم الشان منصوبے میں کلائمیٹ رسک پروفائلز، واش ایڈاپٹیشن اینڈ مٹیگیشن فریم ورک، سوشل موبلائزیشن اسٹریٹجی اور نظرثانی شدہ سینیٹیشن پالیسی اسٹریٹجی فریم ورکس شامل ہیں۔ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھتران اور دیگر تمام متعلقہ محکموں کی کاوشیں لائقِ تحسین ہیں. گورنر غربت اور وسائل کی کمی ان مسائل میں اضافہ کرتی ہے اور موسمیاتی تبدیلی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ خشک سالی، سیلاب اور دیگر شدید موسم ہمارے لوگوں اور ہماری خدمات کو زیادہ خطرے میں ڈال رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کا لانچنگ پلان ہمیں آگے کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہ مضبوط انفراسٹرکچر کی تعمیر، ہمارے اداروں کو بہتر بنانے، کمیونٹیز کو شامل کرنے اور نئی شراکتیں لانے کا منصوبہ مرتب کرتا ہے۔ آج شروع کیے گئے معاون فریم ورک ہمیں موسمیاتی خطرات کو سمجھنے، اچھے طریقوں کو فروغ دینے اور سروس فراہم کرنے والے بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔ میں خاص طور پر یونیسیف کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کے مضبوط اور مسلسل تعاون پر۔ آئیے ہم اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ایک دوسرے کے ہاتھ تھامیں کہ ہر شہری کو صاف پانی، صفائی ستھرائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف لچک حاصل ہو۔ آخر میں گورنر بلوچستان نے دس سالہ واٹر اینڈ سینیٹیشن منصوبہ کی افتتاحی تقریب کے مہمانوں گرامی اور منتظمین میں شیلڈز تقسیم کیے گئے۔

