مستونگ ( این این آئی) نیشنل پارٹی مستونگ کے ضلعی صدر میر سکندر خان ملازئی ضلعی نائب صدر آغا انور شاہ تحصیل کردگاپ کے جنرل سیکریٹری میر غلام مصطفی سرپرہ نے اپنے ایک بیان میں تحصیل کرگاپ کے نواحی علاقوں میں پچھلے جبکہ تحصیل ایریا سرداری شہر میں ٥ روز سے بجلی کی مکمل بندش پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیسکو حکام نے یزیدیت کی انتہاء کردی ہے۔ پورے تحصیل کردگاپ میں بجلی کی مکمل بندش نے ہزاروں گھرانوں کے عوام کو اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ہے، لوگ اپنے علاقہ اور گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں جبکہ عوام کو پینے کی پانی کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ روزمرہ کی معمولات زندگی بھی بری طرح مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔۔۔۔
انہوں نے کہا کہ کھٹتلی حکومت کے یہ جابرانہ اور ظالمانہ اقدامات اب ناقابل برداشت ہوچکے ہیں۔ عوام کے ساتھ دشمنی پر مبنی یہ پالیسیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومتی ادارے شہریوں کو سہولیات دینے کے بجائے ان کے بنیادی حقوق سلب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔۔۔
میر سکندر ملازئی آغا انور شاہ نے واضح کیا کہ اگر تحصیل کردگاپ شہر سمیت تمام علاقوں میں بجلی کی فوری بحالی نہ کی گئی تو نیشنل پارٹی کردگاپ کے عوام کے ساتھ مل کر شدید احتجاجی تحریک شروع کرے گی اور اس کے تمام تر نتائج فارم 47 کے کٹپتلی حکومت اور کیسکو حکام پر عائد ہوگی۔۔۔
دریں اثناء نیشنل پارٹی کے رہنماوں نے کہا ایک طرف کیسکو کی زمیندار کش پالیسوں نے زراعت کا جنازہ نکال دیا ہے اور دوسری جانب وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے ایران و افغانستان سے پیاز اور ٹماٹر کی درآمد کر کے بلوچستان کے محنت کش زمینداروں کے سال بھر کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں اس وقت پیاز اور ٹماٹر کی مقامی فصل مارکیٹ میں موجود ہے لیکن درآمدی سبزیوں کی بھرمار نے ان کی محنت کو ضائع کر دیا ہے۔۔۔۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی پیداوار ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے مگر حکومتی نااہلی اور غیر منصفانہ پالیسیوں کے باعث بلوچستان کے مقامی فصلات کوڑیوں کے دام فروخت ہوتے ہیں، جس سے محنت کش کسان شدید مالی نقصان اور مشکلات کا شکار ہوکر قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے ہیں
نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ایران و افغانستان سے پیاز اور ٹماٹر کی درآمد پر پابندی عائد کرے اور مقامی زمینداروں کی محنت کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے

