توحید اللہ کی وحدانیت کا اعلان،انسانی زندگی کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے،مقررین کا محسن انسانیتؐ کانفرنس سے خطاب

خضدار(این این آئی) مدرسہ تفہیم القرآن قادر آباد خضدار میں محسن انسانیت کانفرنس کا عظیم الشان انعقاد ہوا، جس کی انتظامی ذمہ داری جماعت اسلامی بلوچستان کے ڈپٹی سیکریٹری اور ممتاز دینی، سیاسی، سماجی رہنماء و مدیر جامعہ ہذا مولانا محمد اسلم گزگی نے سنبھالی۔ مولانا اسلم گزگی، جو اپنی غیر معمولی تنظیمی صلاحیتوں، وسیع روابط اور لازوال جذبے کی بدولت ضلع بھر کی دینی و سماجی زندگی کے مرکزی ستون سمجھے جاتے ہیں، نے اس کانفرنس کو نہ صرف ایک مذہبی جلسہ بلکہ انسانیت کی خدمت اور اتحاد امت کے عظیم منشور کی تجدید کا پلیٹ فارم بنا دیا۔ ان کی بے مثال محنت سے یہ کانفرنس ضلع کی تاریخ میں ایک سنہری باب ثبت کر گئی۔ مدرسہ تفہیم القرآن قادر آباد کے احاطے میں لگائے گئے وسیع پنڈال میں ہزاروں عوام کا سیلاب آیا، جہاں جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر و ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان مولانا محمد نصیب مینگل، مولانا احمد جمشید مولانا محمد اسماعیل شاہ کاظمی مولانا محمد عارف دمڑ جیسے ممتاز علماء نے دل موہ لینے والے خطبات پیش کئے مولانا اسلم گزگی کی اسٹیج انتظامیہ میں مرکزی کردار نے تقریب کو ایک منظم اور روح پرور ماحول بخشا، جس سے شرکاء کے دلوں میں محسنِ انسانیت کی سیرت کی روشنی مزید چمکی۔ جلسہ عام کا آغاز قاری محمد انور شاکر کی تلااوت سے ہوا۔جلسہ عام کی اسٹیج کے فرائض مولانا محمد اسلم گزگی اور مولانا خالد الرحمان شاہوانی نے بڑی خوبصورتی سے سرانجام دیئے۔ کانفرنس میں شعراء نے حمد، نعت اور دینی و اسلامی ترانے پیش کر کے ماحول کو خوشگوار جیسا بنا دیا۔مقامی سیاسی و سماجی رہنماوں و مختلف طبقات کے عہدیدار بشیر احمد جتک، عبدالقدیر زہری حافظ حمیداللہ مینگل، عبدالحمید بلوچ، عید محمد ایڈووکیٹ ارشاد گزگی ا ادریس زہری عبداللہ شاہوانی، کراچی سے آئے تبلیغی رہنماء بھائی محمد ہارون، منیر احمد زہری، عبدالجبار حسنی، عبدالواحد رند ثناء شاہ خورشید بلوچ منظور نوشاد، ثناء اللہ جام قاری انور شاکر انعام مینگل سردار محمد فاروق چھانگاہ تحصیلدار محمد اشرف بشیر رئیسانی، دانش مینگل و دیگر مہمانوں کی کثیر تعداد نے مولانا محمد اسلم گزگی کی دعوت پر کانفرنس میں شرکت کی، جس نے تقریب کو ایک جامع قومی جلسہ بنا دیا۔مدرسہ تفہیم القرآن قادر آباد خضدار کے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ سیرت النبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم شان و ہدایات اور دین اسلام کی تعلیمات کو اجاگر کرتے ہوئے فلسطین کی حمایت میں آواز اٹھائی۔ یہ کانفرنس ظہر کی نماز کے بعد شروع ہوئی اور رات گئے تک جاری رہی، جس میں ضلع بھر سے آئے عوام نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ملک کے نامور مبلغ اور خوش زبان مقرر مولانا احمد شعیب جامعہ منبع العلوم کراچی کے مدیر مولانا محمد نصیب مینگل، مولانا محمد اسماعیل شاہ کاظمی، جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ اور مولانا محمد عارف دمڑ نے خصوصی خطابات کیئے۔ ان خطابات میں مدرسہ تفہیم القرآن کی تعلیمات پر بھی روشنی ڈالی گئی اور مولانا محمد اسلم گزگی کی خدمات کی تعریف کی گئی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا احمد شعیب نے توحید کو اسلام کی بنیادی ستون قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ توحید اللہ کی وحدانیت کا اعلان ہے جو انسانی زندگی کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔ “توحید صرف زبانی کلمہ نہیں بلکہ عمل کی بنیاد ہے، جو ہر مسلمان کو شرک کی زنجیروں سے آزاد کرتی ہے اور اسے اللہ کی بندگی کی طرف بلاتی ہے۔ آج کے دور میں جہاں مادی پرستی اور بت پرستی کی شکلیں بدل چکی ہیں، توحید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تمام کائنات کا خالق ایک ہی ہے اور اس کی مرضی کے بغیر کوئی ذرہ بھی حرکت نہیں کر سکتا۔” مولانا شعیب نے مزید کہا کہ توحید پر عمل کرنے والا فرد معاشرے میں امن اور انصاف کا فروغ کرتا ہے، کیونکہ یہ عقیدہ ہر قسم کی غلامی سے نجات دلاتا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ توحید کی تعلیم ہمیں بتوں کی پرستش سے روکتی ہے، چاہے وہ مادی دولت کے بت ہوں یا طاقت کے نشانیاں۔ “یہ عقیدہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی رضا کے سوا کوئی مقصد نہیں، اور اسی سے انسانی فلاح کی ضمانت ملتی ہے۔” ان کا خطاب سننے والوں میں گہری سوچ پیدا کرنے والا ثابت ہوا، جو تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔مولانا محمد نصیب مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امتوں کے رہنما ہیں جنہوں نے جہالت کی تاریکیوں کو علم کی روشنی سے دور کیا۔ “آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ایک ایسا مشعلِ راہ ہے جو تمام اقوام کو راہِ راست پر چلنے کی دعوت دیتی ہے۔ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ ہمیں سکھاتا ہے کہ محبت، عفو اور عدل کیسے معاشرے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔” مولانا مینگل نے مزید کہا کہ ہادی امم کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کی قبائل کو ایک امت میں تبدیل کیا، جو آج بھی مسلمانوں کے لیئے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو امتوں کی فلاح کا سبب قرار دیا اور کہا کہ آپ کی سنت ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت دیتی ہے۔ “یہ شانِ ہادی امم ہمیں بتاتی ہے کہ ایک فرد کیسے پوری دنیا کو بدل سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اللہ کی ہدایت پر عمل کرے۔” خطاب کے دوران انہوں نے تاریخی واقعات کا حوالہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح معاشرتی برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، جو سامعین کے لیئے انتہائی متاثر کن ثابت ہوا۔لاہور سے آئے مہمان مولانا محمد اسماعیل شاہ کاظمی نے دین اسلام کی تعلیمات پر تفصیلی بحث کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام کی تعلیمات انسانی فطرت کے مطابق ہیں جو عدل، مساوات اور اخوت کو فروغ دیتی ہیں۔ “دین اسلام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، چاہے وہ معاشی نظام ہو یا سماجی تعلقات۔” مولانا کاظمی نے مزید کہا کہ اسلام کی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ دولت کی تقسیم اور غریبوں کی مدد معاشرے کی بنیاد ہے، جو آج کے سرمایہ دارانہ نظام کی برائیوں کا علاج ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کو وسعت دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کی تعلیمات خاندان کی حفاظت، تعلیم کی اہمیت اور اخلاقی اقدار کو اجاگر کرتی ہیں۔ “یہ تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیئے عمل کی ضرورت ہے، نہ کہ محض دعاؤں کی۔” خطاب کے اختتام پر انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کی تعلیمات کو اپنانے سے ہی قوم کی ترقی ممکن ہے، جو کانفرنس کے ماحول کو مزید گرم کر گیا۔جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے فلسطین کی حمایت میں زور دار آواز اٹھائی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فریڈم فلوٹیلا کا قافلہ جو فلسطینیوں کیلئے امداد لے جا رہا تھا، اسے اسرائیل کی طرف سے روکا جانا انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ “یہ قافلہ محبت اور مدد کا پیغام لے جا رہا تھا، لیکن اسرائیلی فورسز نے اسے روک کر ظلم کی انتہا کر دی۔ ہم اس قافلے کے حق میں کھڑے ہیں اور فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔” مولانا بلوچ نے مزید کہا کہ فلسطین کی سرزمین پر ہونے والا مظالم پوری امت مسلمہ کے لیئے شرمندگی کا باعث ہے، اور ہمیں اس کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھانی چاہیئے انہوں نے تفصیل سے بیان کیا کہ فریڈم فلوٹیلا جیسے اقدامات انسانی ہمدردی کی علامت ہیں، جنہیں روکنا بین الاقوامی قوانین کی توہین ہے۔ “فلسطین کے حق میں کھڑے ہونا ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے، اور ہم اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔” ان کا خطاب سیاسی اور دینی نقطہ نظر سے فلسطین کی حمایت کو مضبوط بنانے والا تھا، جس نے سامعین میں جذباتی ہلچل پیدا کر دی۔مولانا محمد عارف دمڑ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مدرسہ تفہیم القرآن قادر آباد خضدار کی تعلیمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مدرسہ توحید اور سیرت کی تعلیمات کو عملی زندگی میں لانے کا مرکز ہے، جو طلبہ کو اخلاقی اور دینی تربیت دیتا ہے۔ “جامعہ اسلامیہ تفہیم القرآن کی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ علم کے ساتھ عمل کا امتزاج ہی اصل کامیابی ہے، اور یہاں طلبہ کو ایسا ماحول ملتا ہے جہاں وہ دین کی خدمت کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ تمام مقررین نے مولانا محمد اسلم گزگی کی خدمات کی خوبصورت تعریف کی اور کہا کہ مولانا محمد اسلم گزگی نے بلوچستان میں دینی تعلیمات کو فروغ دیا۔ “مولانا اسلم گزگی کی محنت سے یہ مدرسہ قائم ہوا، جو آج ہزاروں طلبہ کی رہنمائی کر رہا ہے۔ ان کی زندگی قربانی اور خدمت کی مثال ہے، جو ہمیں سبق دیتی ہے کہ دینی میدان میں استقامت کیسے حاصل کی جائے۔” انہوں نے مدرسہ کی تعلیمات کو علاقائی مسائل کے حل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہاں دی جانے والی تربیت معاشرے میں امن اور اتحاد کو مضبوط بناتی ہے۔ خطاب کے دوران انہوں نے مولانا گزگی کی ذاتی جدوجہد کا ذکر کیا، جو سامعین کے لیئے باعثِ فخر ثابت ہوا۔یہ کانفرنس نہ صرف دینی موضوعات پر بحث کا موقع فراہم کر گئی بلکہ فلسطین کی حمایت میں ایک متحدہ آواز بھی اٹھائی۔ شرکاء نے اسے کامیاب قرار دیا مولانا اسلم گزگی کی وسیع سماجی رسائی اور سیاسی دیانتداری نے ان رہنماؤں کو ایک جگہ جمع کر کے ضلع کی اتحادی طاقت کا مظاہرہ کیا۔مدرسہ تفہیم القرآن قادر آباد کے مدیر مولانا اسلم گزگی، جو اپنی نڈر بے باکی اور عوامی خدمت کے جذبے سے ضلع کے ہر طبقے کے دل سمیٹ لیتے ہیں، نے ان رہنماؤں کی موجودگی سے کانفرنس کو ایک عظیم سماجی انقلاب کی شکل دے دی۔ مدرسہ تفہیم القرآن خضدار کے احاطے میں بنائے گئے عظیم پنڈال میں ہزاروں کی تعداد میں شرکاء نے شرکت کی، جو مولانا محمد اسلم گزگی کی لازوال محنت اور بے مثال قیادت کا نتیجہ ہے۔ مولانا اسلم گزگی، جو جماعت اسلامی کی قیادت سے لے کر سماجی خدمات تک ایک زندہ مثال ہیں، مولانا محمد اسلم گزگی کی لازوال کاوشوں نے ضلع بھر سے ہزاروں افراد کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔ مولانا اسلم گزگی، جو اپنی سیاسی بصیرت اور دینی فہم کی گہرائی سے امت کی رہنمائی کا ذریعہ ہیں، نے اس موقع پر اتحاد اور انسانیت کی خدمت پر زور دیتے ہوئے سب کو متاثر کیا۔جہاں مولانا اسلم گزگی کی بے مثال پیشہ ورانہ مہارت نے کانفرنس کو ایک شاہکار بنا دیا۔ ان کی قیادت میں یہ جلسہ نہ صرف مذہبی عقیدت کا مرکز بنا بلکہ سماجی ہم آہنگی کا بھی عظیم پیغام دیا، جس کی جھلک ہزاروں شرکاء کی مسکراہٹوں میں نظر آئی۔کانفرنس سے اختتام پر کانفرنس کے تمام شرکاء کو ہرتکلف عشائیہ بھی دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں