حکومت کی جانب سے فی کس زمینداروں کو20لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد زرعی صارفین ٹرانسفارمرز،کھمبے اور دیگر برقی آلات کیسکوکو واپس کرنے کے پابندہیں،کیسکو

کوئٹہ(این این آئی) کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو) نے صوبہ کے اُن تمام زرعی ٹیوب ویل کنکشنز کیسکونیٹ ورک سے منقطع کردئیے ہیں جنہیں حکومت کی جانب سے شمسی توانائی پر منتقلی کے منصوبے میں شامل کئے تھے۔ سولرائزیشن منصوبے کی مدمیں حکومت کی جانب سے زرعی صارفین کو رقوم کی فراہمی کے بعدکیسکوٹیموں نے اُنکے برقی کنکشنزاپنے نیٹ ورک سے منقطع کردئیے۔ اس دوران کچھ زرعی صارفین نے زرعی ٹرانسفارمرز، ایچ ٹی کھمبے اور اُن سے منسلک برقی آلات کیسکوکوواپس کردئیے جبکہ دیگر زرعی صارفین نے عدم تعاون کرتے ہوئے ابھی تک زرعی ٹرانسفارمرز، ایچ ٹی کھمبے اور ان سے منسلک برقی آلات کیسکوٹیموں کے حوالے نہیں کئے ہیں۔ سولرائزیشن منصوبہ کے مطابق حکومت کی جانب سے فی کس زمینداروں کو20لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد زرعی صارفین اپنے ٹرانسفارمرز،کھمبے اور دیگر برقی آلات کیسکوکو واپس کرنے کے پابندہیں جسکے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان زرعی سولرائزیشن اور بجلی چوری کی روک تھام کامسودہ قانون مصدرہ2025 بھی منظوری ہوچکی ہے اوراس قانون کے تحت جن زمینداروں کو رقم مل چکی ہے اور اُنہوں نے ابھی تک ٹرانسفارمرز، کھمبے اور برقی آلات واپس نہیں کئے ہیں تو اُن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس سلسلے میں کیسکوٹیموں نے صوبہ کے مختلف علاقوں میں اب تک مجموعی طورپر 25ہزار678زرعی کنکشنز منقطع کردئیے ہیں اورتمام آپریشن سرکلز سے12ہزار319زرعی ٹرانسفارمرز اُتارکرکیسکواسٹورمیں جمع کرادئیے گئے ہیں جبکہ مختلف آپریشن سرکلز میں زرعی صارفین نے 13ہزار 359ٹرانسفارمرزاور ان سے منسلک دیگر برقی آلات تاحال کیسکوکو واپس نہیں کئے ہیں جوکہ زمینداروں کی جانب سے ٹرانسفارمرز کی واپسی کاتناسب تقریباً 48فیصد بنتاہے۔ کیسکونے تقریباً8ہزار398زرعی صارفین کے خلاف مزید قانونی کارروائی اور ایف آئی آرز کے اندراج کیلئے ضلعی انتظامیہ کوتحریری طورپر درخواست ارسال کردئیے ہیں تاکہ اُن زرعی صارفین سے ٹرانسفارمر زاور ایچ ٹی کھمبے وغیرہ کی واپسی کاعمل مکمل کیاجاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں