نیشنل پریس کلب میں صحافیوں پر تشدد قابل مذمت ہے، سینیٹر مولاناعبد الواسع

کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر اور سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع نے نیشنل پریس کلب میں صحافیوں پر یلغار کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل دراصل جمہوری اقدار، آئین اور آزادی صحافت پر ایک کھلا حملہ ہے۔ جے یو آئی اس بزدلانہ رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی اور صحافی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتی ہے۔مولانا عبد الواسع نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور زبان ہیں، ان پر حملہ دراصل حق و سچ کو دبانے کی ناکام کوشش ہے۔ جے یو آئی آزادی صحافت کے تحفظ کی جنگ ہمیشہ لڑتی رہی ہے اور آئندہ بھی ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔مسلم باغ کے دورے کے دوران مفتی محمود کانفرنس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبد الواسع نے کہا کہ یہ کانفرنس صوبے کے عوام کے لیے ایک شعور بیدار کرنے والا فورم ثابت ہوگی، جہاں امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز، ملکی و بین الاقوامی حالات اور اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں پر کھل کر بات کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نہ صرف وطن عزیز کی سلامتی اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے بلکہ یہ تحریک عالم اسلام کی ایک توانا اور متحدہ آواز ہے۔ ہر دور میں جے یو آئی نے امت مسلمہ کی رہنمائی کی ہے اور آج بھی عملی میدان میں سب سے مؤثر قوت کے طور پر موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر کچھ سازشی عناصر امت مسلمہ کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں۔ ہم ان عناصر کو خبردار کرتے ہیں کہ ہمارے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے، کیونکہ دوغلی پالیسی کسی صورت قبول نہیں۔ جے یو آئی کسی بھی ایسے اقدام کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی جو فلسطین کے مظلوم عوام کی جدوجہد کو نقصان پہنچائے۔مزید برآں مولانا عبد الواسع نے کہا کہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن کے حکم پر “گلوبل صمود فلوٹیلا” پر اسرائیلی حملے کے خلاف بلوچستان بھر میں ہزاروں عوام کا سڑکوں پر نکلنا اور اسرائیل کے خلاف کامیاب احتجاج جے یو آئی کی قیادت پر عوام کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ صرف آغاز ہے، کیونکہ اب خاموشی جرم کے مترادف ہے۔ وقت آچکا ہے کہ ہم فلسطینی بھائیوں کو یاد رکھیں، ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور امت مسلمہ کی اجتماعی طاقت کو بیدار کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں