کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان بار کونسل کے حالیہ انتخابات میں خواتین وکلا کی نمائندگی نہ ہونے پر ایڈوکیٹ صابرہ اسلام نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ تینوں بڑے پینلز نے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا لیکن کسی ایک نے بھی کسی خاتون وکیل کو سامنے لانا ضروری نہیں سمجھا یہ رویہ خواتین وکلا کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے اور اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو طویل عرصے سے بار کونسل میں غالب ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکثر یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ خواتین بار کونسل کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے خود آگے نہیں آتیں، لیکن یہ مؤقف درست نہیں۔ “اس مرتبہ میں نے ذاتی طور پر ایک پینل کی طرف سے اپنی نامزدگی کے لیے درخواست جمع کروائی تھی، مگر افسوس کہ میری درخواست کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا اور کسی بھی خاتون کو پینل کا حصہ نہیں بنایا گیا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ خواتین کے آگے نہ آنے کا نہیں بلکہ انہیں جان بوجھ کر موقع نہ دینے کا ہے۔”
ایڈوکیٹ صابرہ اسلام کے مطابق بلوچستان بھر میں ہزاروں خواتین وکلا عدالتوں اور مختلف فورمز پر سرگرم عمل ہیں لیکن افسوس ہے کہ بار کونسل جیسے اعلیٰ ادارے میں ان کی نمائندگی صفر کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامران مرتضی، منیر کاکڑ، رئوف عطاء اور میر عطا اللہ لانگو کی سربراہی میں قائم پینلز نے خواتین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج بھی انہیں نمائندگی کا حق نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے اس امتیازی رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہی امیدوار سامنے لائے گئے ہیں جو وکلا ویلفیئر، رول آف لا، عدالتی اصلاحات اور انسانی حقوق کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن بلوچستان کے حقیقی مسائل پر ہمیشہ خاموش رہے ہیں۔ ان کے وعدے صرف انتخابات تک محدود ہوتے ہیں، اس کے بعد وہ منظر سے غائب ہو جاتے ہیں۔
ایڈوکیٹ صابرہ اسلام نے واضح کیا کہ خواتین وکلا اس ناانصافی پر خاموش نہیں بیٹھیں گی۔ وہ بھرپور مہم چلائیں گی تاکہ آئندہ بار کونسل میں خواتین کو مساوی نمائندگی حاصل ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان بار کونسل خواتین کی شمولیت کے بغیر ادھورا ہے، اور انصاف، برابری اور قانون کی بالادستی اسی وقت ممکن ہے جب خواتین وکلا کو برابر کا مقام اور موقع دیا جائے۔

