مدارس اور سکولوں کے طلبہ میں کوئی فاصلہ نہیں ہے، حافظ محمد اعظم بلوچ

پنجگور (این این آئی)دی اوئیسس اکیڈمی پنجگور کے زیر اہتمام شاندار مقابلہ حسن قرات کی محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں پنجگور کے دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا مقابلہ حسن قرات کے مہمان خاص جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی امیر حافظ محمد اعظم بلوچ تھے جبکہ دیگر مہمانوں میں خطیب جامع مسجد پنجگور مولانا علی احمد ممتاز عالم دین مولانا عبدالحلیم،جماعت اسلامی پنجگور کے امیر حافظ صفی اللہ جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی رہنما حاجی عبدالعزیز بلوچ نوجوان مذہبی اسکالر مفتی محمد آصف عثمان،ڈائریکٹر دی اوئیسس اکیڈمی پنجگور میجر ریٹائرڈ حسین علی پرنسپل نظر علی،سنئیر استاد عبداللہ کریم سمیت مدارس کے متہم اور سکولوں کے نمائندے شریک رہے مقابلہ حسن قرات میں پہلی پوزیشن معمار نو اکیڈمی کے حسنین نادر نے، دوسری پوزیشن سمیر داد دارالعلوم گرمکان اور تیسری پوزیشن مدثر ہائی سکول گرمکان کے نام رہا ڈائریکٹر دی اوئیسس اکیڈمی میجر ریٹائرڈ حسین علی، مفتی محمد آصف،پرنسپل نظر علی اور دیگر ممانان گرامی نے پوزیشن ہولڈرز اور مقابلے میں حصہ لینے والے طلبہ میں شیلڈ اور دیگر انعامات تقسیم کیے حسن قرات مقابلے کی شاندار تقریب میں جے یو آئی کے ضلعی امیر اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ پروقار پروگرام ایک پیغام ہے کہ مدارس اور سکولوں کے طلبہ میں کوئی فاصلہ نہیں ہے قرآن پاک کی تعلیم ہمارے عصری اداروں میں بھی دی جاتی ہے جس کی مثال آج کا یہ پروقار تقریب ہے جس میں مدارس اور سکولوں قراء کے درمیان مقابلہ منعقد کیاگیا ہے انہوں نے کہا کہ ملا اور مسٹر والی تفریق انگریز کی شرارت تھی جس کی بنیاد پر وہ ہمارے درمیان اختلافات پیدا کرنا چاہتے تھے مگر وقت نے ثابت کیا کہ ملا اور مسٹر والا فلسفہ ہمارے باہمی رشتوں رابطوں میں رکاوٹ نہیں بن سکتے جس طرح ہمارے دینی مدارس میں قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے اسی طرح سکولوں میں بھی قرآن پاک سے محبت پڑھنے کا ذوق وشوق موجود ہے انہوں نے کہا کہ آج کے پروگرام سے کم سے کم یہ فرق تو ختم ہوگیا ہے کہ مدارس کے پڑھنے والے الگ مخلوق اور عصری درسگاہوں میں پڑھنے والے کسی اور دنیا سے رغبت رکھتے ہیں بلکہ ہم سب ایک ہیں دین کے حوالے سے ہم سب کا ایک ہی جزبہ ہے انہوں نے کہا کہ اس جزبے کے آگے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی انہوں نے کہا کہ دی اوئیسس اکیڈمی کی انتظامیہ نے اپنے تئیں یہ پروگرام منعقد کرکے ایک بہترین پیغام دیا ہے کہ آئیے ہم سب ملکر اپنے بچوں میں موجود ٹیلنٹ اور انکی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں اور اس طرح کے پروگراموں کے زریعے دینی وعصری اداروں اور ان میں پڑھنے والے طلبہ میں ایک ربط جس کا مقصد باہمی رشتوں کی مظبوطی ہے مدارس اور سکولوں کی سطح پر وقتا فوقتا منعقد ہونے چائیں تاکہ بچوں کی صلاحیتیں اجاگر ہوسکیں اور ناقدین کو یہ باور ہوسکے کہ مسٹر اور ملا والا فلسفہ اب ہمارے درمیان کوئی فاصلہ پیدا نہیں کرسکتا بلکہ دینی وعصری تعلیم ہمارے معاشرے کی ترقی، باہمی رشتوں کو مظبوط بنانے اور سماجی ڈھانچے کو جاندار بنانے کا زریعہ ہے اور علم کی تلاش جہاں سے جدھر سے بھی ممکن ہو اسے حاصل کیا جائے آخر میں دی اوئیسس اکیڈمی پنجگور کے پرنسپل نظر علی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دی اوئیسس اکیڈمی کی طرف سے مقابلہ حسن قرات منعقد کرنے کا مقصد اکیڈمی میں جاری سرگرمیوں کی بابت عوام میں آگاہی اور اپنے علمائے کرام مزہبی اکابرین مدارس اور سکولوں کے طلبہ میں مذید قربت پیدا کرنا تھا تاکہ ہمارے اداروں میں نصابی سرگرمیوں کی بابت وہ باخبر رہ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں