پشاور (این این آئی)گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ میرا پانی میری مرضی کی باتیں عہدے کے ساتھ اچھی نہیں لگتیں، کل کو خیبرپختونخوا کہے گا میرا ڈیم، میری معدنیات تو کیا ہوگا، صوبائیت کو ہوا نہیں دینی چاہیے۔گورنر ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ باجوڑ متاثرین کے لیے ہلال احمر کے ذریعے 50 ہزار فی خاندان دیں گے، پیسے دینے کا مقصد متاثرین کی باعزت واپسی ہے، اب تک 1700 فیملی کا ڈیٹا اکھٹا کیا گیا ہے اور کوشش ہے باقی متاثرین کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے علی حیدر گیلانی سے سیکیورٹی کی واپسی اور اے این پی کے صدر ایمل ولی سے سیکیورٹی کی واپسی غلط بات ہے، پارٹی لیڈر سے سیکیورٹی واپس نہیں ہونی چاہئے کیوں کہ ا ن کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، کیا آپ لوگ دہشت گردوں کو دعوت دے رہے ہیں کہ آئیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہمارے وزیر اعلی پر مجھے ترس آرہا ہے، یہاں اینٹلی جنس بیسڈ آپریشن ہورہے ہیں اور علی امین گنڈا پور کو کچھ پتا ہی نہیں ہوتا۔انہوں نے کہاکہ اگر وہ پیسے کمانے سے فارغ ہوں جائیں تو انہیں پالیسی بیان دینا چاہئے کہ وہ ریاست کے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ ہیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ اسد قیصر عدم اعتماد کی بات کررہے ہیں لیکن پہلے وہ اپنے بھائی کو انصاف دلوائیں کہ انہیں کیوں نکالا گیا، اطلاعات ہیں کہ اسد قیصر کے بھائی کو کرپشن پر نکالا ہے، تاہم اسد قیصر اگر بلاول بھٹو کو ووٹ دیں تو اتحاد پر سوچا جاسکتا ہے۔پنجاب حکومت سے متعلق سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مریم نواز کی صفائی کو میں سراہتا ہوں جو وہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی)کے ذریعے کررہی ہیں، تاہم میرا پانی میری مرضی کی باتیں عہدے کے ساتھ اچھی نہیں لگتیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائیت کو ہوا نہیں دینی چاہیے، مریم نواز کے بیانات چھوٹی ذہنیت کی عکاس ہیں اور اگر کل کو خیبرپختونخوا کہہ دے کہ میرا ڈیم اور میری معدنیات تو پھر کیا ہوگا۔

