اسلام آباد/راولپنڈی/لاہور(این این آئی)مذہبی جماعت کے ممکنہ احتجاج کے باعث دوسرے روز بھی راولپنڈی اور اسلام آباد میں معمولات زندگی بری طرح متاثر رہی،راستوں کی بندش کے باعث جڑواں شہروں میں تجارتی سرگرمیاں بھی معطل رہیں،ایکسپریس وے، فیض آباد اور آئی جی پی روڈ بھی مکمل طور پر بند،راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والا فیض آباد انٹرچینج، کھنہ پل، کری روڈ اور ڈھوک کالا خان کے راستے سیل کئے گئے ہیں،وارث خان، کمیٹی چوک، سکستھ روڈ، شمس آباد، ایران روڈ، راول روڈ، شاہین چوک، صدر اور پرانے ایئرپورٹ سے آنے والے راستے بھی مکمل طور پر بند رہے،دوسری جانب راولپنڈی انتظامیہ نے شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے،ایئرپورٹ جانے والے راستوں کو بھی کنٹینر لگا کر سیل کر دیا گیا،جڑواں شہروں میں انٹرنیٹ سروس دوسرے روز بھی معطل رہی، راستوں کی بندش کے باعث تعلیمی ادارے بھی بند رہے،ممکنہ احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس دوسرے روز بھی معطل رہی، فیض آباد کے مقام پر پولیس فورس تعینات کر کے فیض آباد میں تمام ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کو سیل کردیا گیا۔لاہور میں داخلے کا سگیاں پل کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا، راوی پل کی شاہدرہ جانے والی سڑک پر بھی کنٹینر لگا دیا گیا، پرانے راوی سے لاہور کی طرف آنے والی سڑک بھی بند کر دی گئی۔لاہور پریس کلب اورملحقہ علاقوں میں متعدد کنٹینرز موجود رہے جس سے شہریوں کو ضروری کاموں کے سلسلے میں آنے جانے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔لاہورسے اسلام آباد موٹروے کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند رکھاگیا، اسلام آباد سے لاہور آنے والی موٹروے کو بھی ٹریفک کیلئے بند رکھاگیا، لاہور داخلے کیلئے بابوصابو اورٹھوکرنیاز بیگ سے موٹروے کوانٹری بند رکھاگیا۔وزیر آباد میں جی ٹی روڈ کو مولانا ظفر علی خان بائی پاس کے مقام پر رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا، جی ٹی روڈ چناب ٹول پلازہ کے قریب کنٹینرز لگا کر سڑک کو آمدورفت کے لیے مکمل بند کردیا گیا،خانکی بیراج ٹول پلازہ پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں جبکہ سیالکوٹ ائیرپورٹ جانے والے راستے بھی مکمل بند رہے،گجرات میں دریائے چناب پل کے قریب خندق کھود دی گئی، دریائے چناب پل پر ٹرک اور کنٹینر لگا کر لاہور اور اسلام آباد جانے والی ٹریفک مکمل طور پر بند کر دی گئی،جی ٹی روڈ پر کھاریاں اور سرائے عالمگیر کے مقامات پر بھی خندقیں کھود دی گئیں، خانپور ہزارہ میں سرحدی چوکی جنڈیال دوسرے روز بھی بند رہی۔پنجاب اور خیبرپختونخوا کو ملانے والی جی ٹی روڈ کو ٹریلر اور کنٹینر لگاکر بند کیا گیا ہے ادھر ٹوبہ ٹیک سنگھ سے لاہور جانے والے تمام راستے بند رہے،ایم فور موٹر وے کولاہور کی جانب ٹریفک کے لیے بند رکھاگیا اور شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ادھر سیالکوٹ کے داخلی و خارجی راستوں پر پولیس کی نفری تعینات رہی، ڈسکہ کے خارجی راستوں پر پولیس تعینات رہی، لاہور سیالکوٹ موٹر وے بند رہی دریں اثناء اسلام آباد ٹریفک پولیس کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق دارالحکومت میں ہر قسم کی بھاری گاڑیوں کا داخلہ اگلے احکامات تک معطل رہے گا۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ فیض آباد کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال کے باعث ٹریفک میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ متبادل راستے اختیار کریں تاکہ مشکلات سے بچ سکیں۔رپورٹ کے مطابق کمیٹی چوک، لیاقت باغ موڑ، ڈی اے وی کالج چوک، ایم ایچ چوک، اور ناز سنیما سمیت اہم چوراہے بند کر دیے گئے ہیں، صدر کے علاقے میں حیدر روڈ، سوزوکی اسٹینڈ اور مری چوک بھی بند رہے، جب کہ کچہری چوک جانے والے راستے ناقابلِ رسائی رہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ سوان پل اور نیو گلزار قائد پر جزوی ٹریفک بحال ہو گئی ہے مگر چکری، تھالیاں، برہما، اور مندرہ جیسے بڑے انٹرچینجز بدستور بند رہے جس سے راولپنڈی کی اہم شاہراہوں پر رسائی منقطع ہو گئی، یہی صورتحال دیہی داخلی راستوں پر بھی رہی، جہاں ڈھوک تلا موڑ، میسہ کسوال، بائی خان پل، اور جی ٹی روڈ نزد گوجر خان بند رہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- ’تھوڑا صبر کریں سب واضح ہو جائے گا‘: پی سی بی کا انڈین میڈیا کو جواب
- گوجرانوالہ: موبائل فون کے دور میں بھی بچیوں میں مقبول روایتی کھیل ’شٹاپو‘
- پی ایس ایل کی نئی فرنچائز ’حیدر آباد ہیوسٹن کنگز مین‘ کے نام اور لوگو کا اعلان
- زلمی کا رحمان اللہ گرباز کی شمولیت کا دفاع، افغان کرکٹر کا عدم دستیابی کا اعلان
- پاکستان، بنگلہ دیش اور آئی سی سی حکام کی لاہور میں ملاقات
- ملتان سلطانز ریکارڈ 2.45 ارب میں فروخت، نیا نام راول پنڈی
- ’دوست ممالک کی درخواست‘ حکومت کی پاکستانی ٹیم کو انڈیا کے خلاف کھیلنے کی اجازت
- کرکٹ کی معاشیات: جب ایک میچ نے عالمی کرکٹ کو بحران سے بچا لیا
- ٹی 20 ورلڈ کپ: سپنرز کی شاندار بولنگ، پاکستان نے امریکہ کو ہرا دیا
- ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان کی انڈیا کے ساتھ میچ کھیلنے پر کب کیا ہوا؟

