حذیفہ رحمن کی افغانستان کی سرحدی اشتعال انگیزی کی مذمت

اسلام آباد (این این آئی)وزیر مملکت حذیفہ رحمن نے افغانستان کی سرحدی اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی خودمختاری، سالمیت اور دفاع کے لیے سیاسی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔اتوار کو میڈیا سے بات چیت کے دوران حذیفہ رحمن نے بیرونی چیلنجز کے دوران سیاسی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا اور قومی خودمختاری کے تحفظ میں مسلح افواج کے کردار کی ستائش کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جوابی صلاحیت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی بیرونی یا اندرونی دشمن کو حکومت اور ریاست کے پختہ عزم سے شکست دی جائے گی۔انہوں نے عزم کیا کہ حکومت اور پاک افواج دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گی اور ان کا پیچھا بے رحمی سے کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جو علاقائی استحکام کیلئے پرعزم ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پی ٹی آئی پر شدید تنقید کی کہ وہ مسلسل ریاست مخالف بیانیہ کو فروغ دے رہی ہے جو قومی اتحاد اور استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے۔انہوں نے پارٹی پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام بھی لگایا اور خبردار کیا کہ ایسی حرکتیں ملک کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور حکومت انہیں برداشت نہیں کرے گی۔پی ٹی آئی سے سہیل آفریدی کی نامزدگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں حذیفہ رحمن نے کہا کہ حکومت اور علی امین گنڈاپور کے مطابق کئی پی ٹی آئی اراکین نے اس نامزدگی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں