اسلام آباد (این این آئی)دنیا کی سب سے بڑی ملٹی نیشنل فوڈ کمپنی نیسلے نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دو برسوں میں دنیا بھر میں اپنے 16 ہزار ملازمین کو فارغ کرے گی۔کمپنی کے مطابق مذکورہ اقدام تنظیمی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور لاگت میں کمی لانے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کمپنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی)، آٹومیشن اور شیئرڈ سروسز کے نظام کو فروغ دے رہی ہے تاکہ کام کے طریقہ کار کو مؤثر اور تیز بنایا جا سکے، ان ہی اقدامات کے تحت انسانی ملازمتیں ختم کی جائیں گی۔کمپنی کے مطابق برطرفیوں کا زیادہ اثر انتظامی، مالیاتی اور معاون شعبوں پر پڑے گا جب کہ پیداوار اور لاجسٹکس کے شعبے میں بھی کچھ عملہ کم کیا جائے گا۔نیسلے کے ترجمان نے کہا کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور انہیں بھی اپنے نظام کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، اس لیے نئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔مذکورہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب کمپنی کی قیادت میں حال ہی میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، نئے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد تنظیمی اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے۔کمپنی کی مالیاتی رپورٹ کے مطابق رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں نیسلے کی فروخت میں 4.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو تجزیہ کاروں کی توقعات سے بہتر رہا، برطرفیوں کے اعلان کے بعد کمپنی کے شیئرز میں معمولی اضافہ بھی دیکھا گیا۔ماہرین کے مطابق نیسلے کا یہ اقدام خوراکی صنعت میں بڑھتے ہوئے خودکار نظام (آٹومیشن) کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جو مستقبل میں دیگر عالمی کمپنیوں کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔نیسلے کے علاوہ بھی کئی کمپنیوں نے اے آئی آنے کے بعد ہزاروں ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، درجنوں ملٹی نیشنل کمپنیوں نے گزشتہ دو سال کے اندر ہزاروں ملازمتیں ختم بھی کردی ہیں۔

