لاہور(این این آئی)پاکستان نے زرعی بائیوٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے جس میں ملک کی پہلی جینیاتی طور پر ترمیم شدہ گنے اور جدید کپاس کی اقسام کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ پیشرفت پاکستان اور چین کے درمیان بائیوٹیکنالوجی، زرعی تحقیق اور پائیدار کھیتی کے شعبوں میں تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔نیشنل بائیو سیفٹی کمیٹی نے اپنی حالیہ اجلاس میں ماحول دوست گنے کی اقسام CABB-IRS اور CABB-HTS کو تجارتی استعمال کے لیے منظور کیا، یہ اقسام مقامی ماہرین نے چینی زرعی سائنسدانوں کے تکنیکی تعاون سے تیار کیں جنہیں انسانی صحت اور ماحول کے لیے محفوظ قرار دیا گیا ہے۔کمیٹی نے سینٹر آف ایکسی لینس ان مالیکیولر بایولوجی لاہور کی تیار کردہ بی ٹی کپاس کی قسم CEMB-AAS3 اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار بایوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ (NIBGE) فیصل آباد کی تیار کردہ قسم NIBGE-1601 کی بھی تجارتی منظوری دی۔ دونوں اقسام زیادہ کیڑوں کے خلاف مزاحمت، بہتر پیداوار اور اعلی معیار کے ریشے کی حامل ہیں۔چین اپنی حکومت سے حکومت تعاون پروگرام کے تحت پاکستانی زرعی گریجویٹس کو قلیل مدتی تکنیکی تربیت بھی فراہم کر رہا ہے جس سے پاکستان کو بائیوٹیکنالوجی اور پائیدار زراعت کے میدان میں اپنی داخلی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملے گی۔

