ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے عوام کو مافیاز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والی مہنگائی سے ادویات کو بھی استثناء نہیں جہاں اشیاء خورد و نوش عوام کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں وہیں انسانی زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں بھی ہر برس ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہو جاتا ہے جس سے غریب عوام کے لئے مہنگی ادویات خریدنا ممکن نہیں رہتا اور مریض ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے جاں بحق ہو جاتے ہیں گزشتہ ڈیڑھ بیس میں ادویات کی قیمتوں میں انتہائی غیر ضروری حد تک اضافہ ہوا ہے پچھلے چند ماہ کے دوران ادویات کی قیمتیں پچیس فیصد بڑھی ہیں جس طرح اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے پر کوئی حکومتی چیک اینڈ بیلنس نہیں اسی طرح انسانی جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر بھی حکومتی سطح پر نظام موجود ہونے کے باوجود کرپٹ اور نااہل اداروں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار محمد عبدالقادرنے کہا کہ جس شخص کا جب جی چاہتا ہے وہ ادویات کی قیمتوں میں حکومتی اجازت کے بغیر اضافہ کر دیتا ہے اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں ہوں یا ادویات کی قیمتیں عوام مختلف مافیاز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں اسٹاکسٹ ادویات کے منہ مانگے دام وصول کرنے کے لیے مصنوعی قلت پیدا کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے عوام زائد قیمت ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اشیاء خورد و نوش اور ادویات کی قیمتوں کے کنٹرول کے حوالے سے حکومتی ادارے موجود ہیں لیکن یہ ادارے اسٹاکسٹ کے ساتھ ملی بھگت کرکے قیمتوں میں اضاہ کر دیتے ہیں حکومت سے استدعا ہے کہ وہ عوام کے حال پر رحم کرے اور اپنے متعلقہ محکموں کے افسران اور اہلکاروں کی مشکیں کسے تاکہ وہ ناجائز منافع خوری کرکے عوام کا جینا دوبھر نہ کر دیں حکومتی اداروں کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے عوام کا زندہ رہنا محال ہو چکا ہے حکومت فوری طور پر اس دگرگوں صورتحال کا جائزہ لے اور فوری طور پر عوامی ریلیف کے اقدامات اٹھائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں