تربت میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا زرعی میلے کا افتتاح، کھجور صنعت کے فروغ پر زور

تربت (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے آج سرکٹ ہاؤس تربت میں سوشل انٹرپرائزز پلیٹ فارم کے زیر اہتمام منعقدہ ایک روزہ زرعی میلے کا افتتاح کیا۔ اس میلے کا مقصد مقامی زرعی پیداوار، بالخصوص کھجور کی جدید زرعی طریقوں کے تعارف اور مقامی کاشتکاروں کو کاروباری مواقع سے جوڑنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ کھجور کیچ کی پہچان اور مقامی معیشت کا بنیادی ستون ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جس سے نہ صرف ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے بلکہ بلوچستان کے برآمدی شعبے میں بھی اس کی اہم حیثیت ہے۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومتی عدم توجہی اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث یہ صنعت اپنے حقیقی امکانات کے مطابق ترقی نہیں کر سکی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان خصوصاً مکران ڈویژن میں کھجور کی کاشت، پروسیسنگ، پیکنگ اور برآمد کے وسیع امکانات موجود ہیں، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس شعبے کو صنعتی درجہ دے، تحقیقی مراکز قائم کرے اور کاشتکاروں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی سے روشناس کرائے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سوشل انٹرپرائزز پلیٹ فارم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے زرعی میلوں کے انعقاد سے مقامی کسانوں اور کاروباری طبقے کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میلے نہ صرف کھجور کی صنعت کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ لائیو اسٹاک اور دیگر زرعی سرگرمیوں کے لیے بھی نئی راہیں کھولیں گے۔ اس سے کیچ اور مکران کی معیشت میں استحکام اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کی خوشحالی کا راستہ زراعت، ماہی گیری اور مقامی صنعتوں کے فروغ سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر ان شعبوں پر توجہ دی جائے تو نہ صرف صوبہ خودکفیل ہو سکتا ہے بلکہ برآمدات کے ذریعے قومی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔

تقریب میں نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن کہدہ اکرم دشتی، واجہ ابوالحسن بلوچ، مئیر تربت بلخ شیر قاضی، سید ملا برکت بلوچ، رجب یاسین، محمد جان دشتی، وحدت بلوچستان کے میڈیا سیکرٹری حفیظ علی بخش، ضلعی جنرل سیکرٹری سرتاج گچکی، شعیب ناصر بلوچ، ڈپٹی مئیر نثار ملنگ، ڈاکٹر حیات بلوچ، جمال شکیل بلوچ، سیف اللہ اور گلزار کریم سمیت سیاسی و سماجی رہنما، کسان نمائندے، طلبا اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب کے اختتام پر زرعی مصنوعات، کھجور کے مختلف اقسام، لائیو اسٹاک، اور مقامی دستکاریوں پر مشتمل اسٹالز کا دورہ کیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے نمائش کنندگان کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مقامی پیداوار کے فروغ کے لیے حکومت اور نجی اداروں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں