مکران تا کراچی روٹ — چیک پوسٹوں پر مسافروں کی تذلیل بند کی جائے

مکران (رپورٹر)مکران سے کراچی تک کا سفر آج کے دور میں عزت سے زیادہ آزمائش بن چکا ہے۔ تربت، پسنی، پنجگور، اور گوادر کے مسافر جب کراچی کا رخ کرتے ہیں تو راستے میں درجنوں چیک پوسٹوں پر روک روک کر اس طرح ذلیل و خوار کیے جاتے ہیں جیسے وہ اپنے ہی وطن کے شہری نہیں بلکہ کوئی مشکوک لوگ ہوں۔

ہر چیک پوسٹ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں، مسافروں سے سوال در سوال، کبھی شناختی کارڈ، کبھی موبائل کی جانچ، کبھی بیگ الٹائے جاتے ہیں۔ بیمار، بوڑھے، خواتین، بچے — سب تپتی دھوپ میں انتظار کرتے رہتے ہیں۔ یہ کیسا نظام ہے جو عوام کو تحفظ دینے کے بجائے انہیں خوف اور ذلت میں مبتلا کر دیتا ہے؟

مکران کے عوام دہشتگرد نہیں، وہ محنت کش ہیں، تاجر ہیں، مزدور ہیں، طلبہ ہیں — جو کراچی روزگار، تعلیم اور علاج کے لیے سفر کرتے ہیں۔ مگر ان کے لیے یہ سفر عزت کے بجائے ذلت کی راہ بن چکا ہے۔

ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر مکران کے لوگوں کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کب ختم ہوگا؟ کیا بلوچ مسافر اپنی ہی سرزمین پر عزت سے سفر نہیں کرسکتے؟

وقت آگیا ہے کہ حکام اس ظالمانہ رویے کا نوٹس لیں۔ عوام کے ساتھ احترام کا سلوک کیا جائے، چیک پوسٹوں کو عوامی تحفظ کا ذریعہ بنایا جائے، نہ کہ ذلت و تذلیل کی علامت۔

یہ تحریر مکران کے ہر اس مسافر کی آواز ہے جو اپنی ہی مٹی پر اپنے حقِ عزت کے لیے ترس رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں