لسبیلہ(بیوروچیف ) امیر اہل سنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادر ی دامت برکاتہم العالیہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کے پاس الگ الگ نعمتیں ہوتی ہیں، کوئی فیکٹری کا مالک ہوتا ہے تو کوئی ملازم،سب کو سب کچھ مل جائے یہ ضروری نہیں، جو کچھ اللہ نے دیا ہے، اس پر قناعت کریں اور صبر کے ساتھ شکر گزار بن کر زندگی گزاریں،شکر گزار بندہ ہمیشہ پرسکون رہتا ہے جبکہ ناشکری انسان کو ہمیشہ پریشانی میں مبتلا رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ میں ہونے والے مدنی مذاکرے میں بذریعہ ویڈیو لنک گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ امیر اہل سنت نے کہا کہ کاروبار میں ترقی کیلئے حکمت عملی اور منصوبہ بندی ضروری ہے مگر ساتھ ہی اللہ پر توکل رکھنا چاہئے ، انسان کو نہیں معلوم کہ اس کے مقدر میں کتنا رزق ہے مگر رزق کے حصول کی کوشش کرنا اچھی بات ہے،بعض تاجر گاہکوں کے ساتھ سخت رویہ رکھتے ہیں یا زیادہ نفع حاصل کرنے کی حرص میں گاہک کھو دیتے ہیں، اگر قیمتوں میں نرمی، گاہک کے ساتھ خوش اخلاقی اور کم نفع پر اطمینان اختیار کیا جائے تو کاروبار میں برکت پیدا ہوتی ہے، بعض کام فوری نہیں جم پاتے، لیکن وقت کے ساتھ کامیابی ملتی ہے۔ امیر اہل سنت نے کہا کہ ہم نے دنیا میں رہ کر دنیا بھی بنانی ہے اور آخرت بھی، وہ دنیا بری نہیں جو آخرت کے کاموں میں مددگار ہو،والدین کی خدمت، سچائی، امانت داری، یتیموں کی کفالت، اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ، یہ سب آخرت کی تیاری ہے،دنیا کی محبت سے بچنا، نیکی کے کام کرتے رہنا اور اللہ و رسول ﷺ کی فرمانبرداری اختیار کرنا ہی کامیابی کی راہ ہے۔ امیر اہل سنت نے کہا کہ اگر کوئی شخص محتاج ہے اور قرض ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کو مہلت دینا یا قرض معاف کر دینا افضل عمل ہے، افسوس ہمارے معاشرے میں قرض کی وصولی کیلئے بدمعاشوں یا غنڈوں کا سہارا لیا جاتا ہے جس سے حالات سنگین بن جاتے ہیں اور بعض مقروض خودکشی جیسے گناہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں، ہمیں چاہئے کہ لوگوں پر رحم کریں تاکہ اللہ ہم پر بھی رحم فرمائے، اگر قرض ادا کرنے والا استطاعت رکھتا ہے مگر جان بوجھ کر تاخیر کرتا ہے تو یہ بھی اچھانہیں اور آخرت میں جواب دینا ہوگا۔

